Urdu book · تعمیرِ شخصیت

خاموش تدبیر

Urdu book, p. 271

By Maulana Wahiduddin Khan

چکا ہوگا تو میں اس کو پکڑلوں گا۔ مجرم کے پاس تین گولی تھی۔ کشن چند نے نہایت ہوشیاری کے ساتھ اس کی تینوں گولیاں خالی کرا دیں ۔ اب مجرم کا ہتھیار نا قابل استعمال ہو چکا تھا۔ کشن چند نے اس کو پکڑلیا ( ہندوستان ٹائمر ،ستمبر 1980 ء)۔ اس چھوٹے سے واقعہ میں بہت بڑا سبق ہے۔ اکثر حالات میں حریف سے مقابلہ کا بہترین طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ابتدائی مرحلہ میں اس کے وار کو خالی کر دیا جائے، یہاں تک کہ اس کے ہتھیار کی ” تین گولی “ ختم ہو جائے۔ پھر اس سے مقابلہ کرنا نہایت آسان ہوگا۔ مثلاً ایک شخص آپ سے طاقتور ہے اور وہ آپ کی کسی بات پر برہم ہو جاتا ہے۔ جب وہ آپ کو ڈانٹنا اور بگڑ نا شروع کرے تو ابتدا میں آپ اس کے وار کو خالی کر دیں، یعنی بالکل چپ ہو کر اس کی بات کو سنتے رہیں ۔ یہاں تک کہ جب اس کے الفاظ ختم ہو جائیں اور اس کی بھڑاس نکل جائے، اس وقت سنجیدگی کے ساتھ صورت حال کے بارے میں اس کو بتائیں۔ اگر آپ ابتداء میں اس قسم کا صبر دکھائیں تو آپ یقیناً کامیاب رہیں گے۔ کیوں کہ اب وہ اپنے ہتھیار کی ” تین گولیاں “ ختم کر چکا ہے اور اب بہت آسانی کے ساتھ اس کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ ہیں جو آپ کے خلاف متحد ہو کر آ گئے ہیں اور آپ کو مٹا دینا چاہتے ہیں۔ غور کیجیے تو یہ اتحاد صرف اس بنیاد پر ہو گا کہ آپ ان کے سامنے ان کے حریف بن کر کھڑے ہوئے ہیں۔ اگر آپ حکمت عملی کا طریقہ اختیار کریں اور کچھ دیر کے لیے اپنے کو نشانہ سے ہٹا دیں تو آپ دیکھیں گے کہ ان کا اتحاد ٹوٹ رہا ہے۔ ان کے اتحاد کے ہتھیار کی گولی آپ کا حریف بن کر کھڑا ہونا تھا۔ جب آپ نے اپنے کو حریف کے مقام سے ہٹا دیا تو گویا آپ نے ان کی ” تینوں گولیاں “ خالی کرا دیں۔ اس کے بعد وہ اپنے آپ منتشر ہو جائیں گے اور جو گروہ اختلاف اور انتشار میں پڑ جائے اس کو ختم کرنے کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔ ایسا گروہ خود اپنے ہی ہاتھوں اپنے کو ختم کر لیتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page