Urdu book · تعمیرِ شخصیت

خاموش تدبیر

Urdu book, p. 272

By Maulana Wahiduddin Khan

کوئی حریف جب سامنے آتا ہے تو آدمی جوش میں آ کر اس سے لڑنے لگتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے ہی مرحلہ میں وہ حریف کی طاقت کا نشانہ بن جاتا ہے۔ اگر آدمی صبر اور دانش مندی سے کام لے اور مقابلہ کے ابتدائی مرحلہ میں حریف کے وار کو خالی جانے دے تو بہت جلد ایسا ہوگا کہ حریف خود اپنی کارروائیوں کے نتیجہ میں اپنے کو غیر مسلح کر چکا ہوگا۔ یاد رکھئے، کوئی بھی شخص جو آپ کے مقابلہ میں آتا ہے اس کے پاس ہمیشہ ”تین“ ہی گولیاں ہوتی ہیں۔ لاتعداد گولیاں کسی کے پاس نہیں ہوتیں۔ اگر آپ یہ ہوشیاری دکھائیں کہ مقابلہ کے آغاز میں کسی طرح اپنے کو نشانہ سے ہٹا لیں تو اس کے بعد یقینی طور پر ایسا ہوگا کہ دشمن اپنی ”تین گولیوں“ کو ختم کر کے خالی ہاتھ ہو چکا ہوگا۔ اب زیادہ بہتر طور پر وہ وقت آجائے گا کہ آپ اس کو زیر کر سکیں۔ یہ کامیابی ہر ایک حریف کے اوپر حاصل کی جاسکتی ہے۔ بشرطیکہ مقابلہ پیش آنے کے بعد آدمی اپنے حواس کو نہ کھوئے۔ صبر کا طریقہ فساد کا کوئی سبب پیدا ہو تو اس وقت ایک طریقہ صبر کا ہے اور دوسرا طریقہ اشتعال کا۔ ایسے موقع پر مشتعل ہونا فساد کو بڑھاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر ذہن کو قابو میں رکھ کر سوچا جائے اور صبر کا طریقہ اختیار کیا جائے تو مسئلہ جہاں تھا وہیں ختم ہو جاتا ہے۔ یہاں ہم چند واقعات لکھتے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ صبر کا طریقہ اختیار کرنا کس طرح فساد کی آگ کو ٹھنڈا کر دیتا ہے۔ 1۔ غالباً 1973ء کی بات ہے۔ دار العلوم ندوہ (لکھنو) کے قریبی محلہ میں ایک غیر مسلم کی گائے تھی ۔ ایک مقامی مسلمان نے کسی وجہ سے گائے کو مارا۔ اتفاق سے چوٹ کسی نازک مقام پر لگ گئی اور گائے مرگئی۔ غیر مسلم حضرات کو جب معلوم ہوا کہ ان کی گائے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page