خاموش تدبیر
Urdu book, p. 273
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک مسلمان نے مار ڈالی ہے تو پورے علاقے میں اشتعال پیدا ہو گیا ۔ سیکڑوں کی تعداد میں غیر مسلم لوگ جمع ہو گئے ۔ سب سے قریب مرکز ندوہ تھا۔ وہ لوگ ندوہ میں گھس آئے اور اشتعال انگیز نعرے لگانے لگے۔ یہ بڑا نازک وقت تھا۔ اندیشہ تھا کہ وہ لوگ ندوہ کو آگ لگا دیں اور پھر سارے شہر میں فساد برپا ہو جائے ۔ ندوہ کے ذمہ داروں نے اس موقع پر مشورہ کیا۔ طے ہوا کہ اس مشتعل مجمع کو ٹھنڈا کرنے کی تدبیر صرف یہ ہے کہ گائے کے قاتل کو مجمع کے حوالے کر دیا جائے۔ اگرچہ یہ ایک خطرناک کام تھا، مگر شہر کو آگ اور خون سے بچانے کی کوئی دوسری تدبیر ممکن نہ تھی۔ چنانچہ ذمہ دار حضرات مذکورہ مسلمان کے پاس گئے، جو غالبًا ندوہ کے ایک کمرہ میں چھپا ہوا تھا۔ اس سے کہا کہ اس وقت ندوہ اور سارا شہر خطرہ میں ہے۔ مگر ان کا سارا غصہ تمھاری وجہ سے ہے۔ اگر وہ تم کو پا جائیں تو ان کا غصہ ٹھنڈا ہو جائے گا۔ اگر چہ یہ تمھارے لیے ایک خطرہ کی بات ہے۔ تا ہم امید ہے کہ اللہ کی مدد حاصل ہوگی اور تم کو کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔ آخر کار وہ راضی ہو گیا۔ اور نکل کر مجمع کے سامنے آ گیا۔ اس نے کہا کہ آپ کی گائے میں نے ماری ہے، اس لیے آپ میرے ساتھ جو چاہیں کریں۔ البتہ یہ ضرور کہوں گا کہ میں نے مارنے کی نیت سے نہیں مارا تھا، بلکہ اس کو بھگانے کے لیے مارا تھا۔ اتفاق کی بات تھی کہ وہ مرگئی۔ مجمع نے جب گائے کے قاتل کو دیکھا اور اس کی باتیں سنیں تو ان کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ وہ لوگ جو ندوہ کو پھونکنے اور شہر کی مسلم آبادی کو ویران کرنے پر تلے ہوئے تھے، وہ صرف اتنی سی بات پر راضی ہو گئے کہ گائے کے قاتل گائے کی قیمت ادا کر دے۔ قیمت فوراً ادا کر دی گئی اور مسئلہ اسی وقت ختم ہو گیا۔ 2۔ فیروز پور جھیر کا ضلع گڑگاؤں (ہریانہ) کا ایک قصبہ ہے۔ قصبہ میں تقریباً تمام دکانیں غیر مسلم حضرات کی ہیں۔ مگر اطراف کے تمام دیہاتوں میں مسلمانوں (میوؤں) کی اکثریت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader