Urdu book · تعمیرِ شخصیت

خاموش تدبیر

Urdu book, p. 274

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ فیروز پور کے بازار میں زیادہ تر یہی مسلمان خریداری کرتے ہیں۔ 1980ء کے آغاز میں یہ واقعہ ہوا کہ ایک غیر مسلم خاندان کی لڑکی گھر سے غائب ہو گئی۔ لوگوں کو شبہ ہوا کہ کچھ مسلم نوجوانوں نے ایسا کیا ہے۔ چنانچہ غیر مسلم حضرات نے کافی شور و غل کیا۔ پولیس میں رپورٹ کر کے کچھ مسلمانوں کو گرفتار کرایا۔ ایک روز احتجاجی ہڑتال کی۔ بسوں کو روک کر مسلم مسافروں کو پریشان کرنا شروع کیا۔ ہندی اخبارات میں اغوا کی رپورٹ شائع کرائی۔ اس طرح کے واقعات نے علاقہ میں سخت اشتعال پیدا کر دیا۔ اور اندیشہ ہو گیا کہ کسی بھی دن فساد برپا ہو جائے اور اس کے بعد سارا علاقہ آگ اور خون کی نذر ہو جائے۔ اس علاقہ میں مسلمانوں کی پنچایت قائم ہے اور اہم قومی مسائل پر پنچایتی فیصلہ کیا جاتا ہے۔ چنانچہ پنچایت کا اعلان ہوا، تاکہ باہمی مشورہ سے اقدام کا فیصلہ کیا جائے۔ ایک خاص تاریخ کو علاقہ کے چودھری اور ذمہ دار مسلمان کئی سو کی تعداد میں فیروز پور کے پاس ایک مقام پر جمع ہوئے۔ کئی گھنٹہ کی گفتگو کے بعد بالآخر بائیکاٹ کا فیصلہ ہوا۔ طے ہوا کہ مسلمان کوئی براہ راست کارروائی نہ کریں، بلکہ خاموشی سے یہ کریں کہ غیر مسلم دکان داروں کے یہاں سے خریداری کرنا بالکل بند کر دیں۔ کچھ لوگ نگراں مقرر ہوئے جو بازار کے تمام راستوں پر بیٹھیں اور یہ دیکھتے رہیں کہ کوئی مسلمان خریداری کے لیے غیر مسلم دکان داروں کے یہاں نہ جائے۔ اگلے دن سے بائیکاٹ شروع ہو گیا۔ میوؤں کے نزدیک برادری کے فیصلہ کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، اس لیے بائیکاٹ کا فیصلہ صد فی صد کامیاب رہا۔ فیروز پور کا بازار نیز اطراف کے بازار جو روزانہ بھرے رہتے تھے بالکل سونے ہو گئے ۔ دکان دار سارے دن بے کار رہنے لگے۔ ابھی بائیکاٹ کو صرف تین دن گزرے تھے کہ غیر مسلم دکاندار چیخ اٹھے۔ غیر مسلم دکان داروں نے باہم مشورہ کر کے علاقہ کے ذمہ دار مسلمانوں کو بلایا اور مسلمانوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page