Urdu book · تعمیرِ شخصیت

خاموش تدبیر

Urdu book, p. 275

By Maulana Wahiduddin Khan

اور غیر مسلموں کی ایک مشترکہ پنچایت کی۔ غیر مسلم حضرات نے کہا کہ ہم آپ کے بھائی ہیں۔ جو کچھ ہوا اس کو بھول جائیے اور ہماری کوتاہی معاف کیجیے اور بائیکاٹ کو ختم کر دیجیے ۔ مسلمانوں نے اس پیش کش کو قبول کر لیا اور چوتھے دن بائیکاٹ ختم ہو گیا اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف جو کارروائیاں کی جا رہی تھیں، وہ بھی ختم ہو گئیں۔ 3۔ علی گڑھ یونیورسٹی کیمپس میں ستمبر 1980ء میں یہ واقعہ ہوا کہ ہادی حسن ہال کے پیچھے ایک جھاڑی میں دوسرے فرقہ سے تعلق رکھنے والے چار آدمی ایک سور کاٹ رہے تھے۔ بظاہر ان کا منصوبہ یہ تھا کہ سور کے ٹکڑے یونیورسٹی میں پھینک کر وہاں کے مسلمانوں کو مشتعل کر دیا جائے اور اس طرح بہانہ پیدا کر کے یونیورسٹی کے علاقہ میں فساد کیا جائے۔ اتفاق سے کچھ مسلم طلباء نے اس کو دیکھ لیا۔ انھوں نے فوراً یونیورسٹی پراکٹر (proctor) کو مطلع کیا۔ پراکٹر نے اسی وقت پولیس کو ٹیلی فون کیا۔ پولیس اطلاع ملتے ہی فوراً پہنچ گئی اور چاروں آدمیوں کو عین موقع پر گرفتار کر لیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لوگوں کی یہی دانش مندی تھی جس کی وجہ سے ایسا ہوا کہ 80-1979ء میں علی گڑھ میں مہینوں تک فساد کا سلسلہ جاری رہا، مگر سارا فساد شہر کے علاقہ میں ہوا اور ریلوے لائن کے دوسری طرف یونیورسٹی کا وسیع علاقہ بالکل محفوظ رہا۔ علی گڑھ کا یہ تجربہ بتاتا ہے کہ ہر تخریبی سازش کو دانش مندی کے ذریعہ غیر موثر بنایا جا سکتا ہے۔ یہ اور اس طرح کے دوسرے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ فساد کے اسباب مکمل طور پر پیدا ہونے کے باوجود اس کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ کوئی واقعہ خواہ کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو ہمیشہ اس کے اندر اس کی کاٹ کے اسباب بھی موجود ہوتے ہیں۔ اور یہ ممکن ہوتا ہے کہ ان کو استعمال کر کے اس کو غیر موثر بنا دیا جائے ۔ مگر اس امکان کو استعمال کرنے کی لازمی شرط صبر ہے۔ واقعہ خواہ کتنا ہی خلاف مزاج ہو، مگر دانش مندی یہ ہے کہ اس کو دیکھ کر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page