خاموش تدبیر
Urdu book, p. 276
By Maulana Wahiduddin Khan
آدمی مشتعل نہ ہو۔ مشتعل آدمی کی عقل کھوئی جاتی ہے۔ وہ کسی معاملہ کو صحیح طور پر سمجھ نہیں سکتا۔ اس لیے وہ اس کو دفع کرنے کی صحیح منصوبہ بندی بھی نہیں کر سکتا۔ اس کے بعد انتہائی ضروری ہے کہ آدمی مشورہ کرے۔ مشورے سے بیک وقت دو فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں کئی آدمیوں کی سوچ اور تجربات شامل ہو جاتے ہیں۔ اس لیے معاملہ کو زیادہ وسعت کے ساتھ سمجھنا ممکن ہو جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اس میں متاثر ذہن کے ساتھ غیر متاثر ذہن کی رائے بھی شامل ہو جاتی ہے۔ اس لیے جو فیصلہ ہوتا ہے، وہ ٹھنڈے ذہن سے سوچا سمجھا فیصلہ ہوتا ہے، نہ کہ مغلوب ذہن کے تحت کیا ہوا فیصلہ۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ یک طرفہ الزام بازی کا طریقہ ہرگز اختیار نہ کیا جائے۔ بلکہ فیاضی کے ساتھ اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا جائے۔ انسان کی یہ نفسیات ہے کہ اگر وہ دیکھتا ہے کہ مقابل کا آدمی اپنی غلطی کو نہیں مان رہا ہے تو اس کے متعلق اس کے اندر انتقام کے جذبات امڈتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر آدمی دیکھے کہ اس کا حریف اپنی غلطی کو کھلے دل سے مان رہا ہے تو اچانک اس کے اندر رحم اور عفو کے جذبات امڈ آتے ہیں۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ غلطی کا اعتراف کر کے اس نے اپنی سزا آپ دے دی ہے، اب میں مزید سزا اسے کیا دوں۔ یہ بھی حد درجہ ضروری ہے کہ قانون کو کبھی اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کی جائے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں باقاعدہ قانون کی حکومت قائم ہو، وہاں قانون اپنے ہاتھ میں لینا اپنے آپ کو مجرم کی صف میں کھڑا کرنا ہے۔ قانون اپنے ہاتھ میں لے کر آدمی اپنے آپ کو بیک وقت دو فریقوں کا مد مقابل بنا لیتا ہے۔ ایک وہ شخص جس نے کوئی شر کیا تھا، اور دوسرے ملک کا انتظامیہ۔ اس کے برعکس، اگر آپ معاملہ کو فوراً انتظامی ذمہ داروں کے حوالے کر دیں تو آپ درمیان سے ہٹ جاتے ہیں۔ اب سارا معاملہ شر پسند اور انتظامیہ کے درمیان ہو جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader