Urdu book · تعمیرِ شخصیت

خاموش تدبیر

Urdu book, p. 277

By Maulana Wahiduddin Khan

آخری ضروری چیز اتحاد ہے۔ کوئی بھی اجتماعی تدبیر اجتماعی طاقت ہی سے کامیاب ہوتی ہے، اور اتحاد ہی کا دوسرا نام اجتماعی طاقت ہے۔ اس سلسلے میں یہ بات بخوبی سمجھ لینا چاہیے کہ اتحاد اس طرح کبھی نہیں ہوتا کہ تمام لوگوں کی رائیں ایک ہو جائیں۔ ایسا اتحاد موجودہ دنیا میں ممکن نہیں۔ اتحاد دراصل اختلاف رائے کے باوجود متحد ہونے کا نام ہے، نہ کہ اختلاف رائے نہ ہونے پر متحد ہونے کا۔ اگر ہم اپنے حریف کے مقابلہ میں مؤثر بننا چاہتے ہیں تو ہم کو رائے کی قربانی دینے پر تیار ہونا پڑے گا۔ رائے کی قربانی ہی پر اتحاد قائم ہوتا ہے اور جہاں اتحاد موجود ہو وہاں کسی شریر کی شرارت کا کوئی گزر نہیں۔ تدبیر وہی ہے جو خاموش تدبیر ہو۔ کسی ناخوش گوار صورت حال کے پیش آنے کے بعد جب آدمی شور و غل کرنے لگے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جذبات سے مغلوب ہو گیا ہے۔ اور جذبات سے مغلوب انسان کبھی کوئی گہری تدبیر سوچ نہیں سکتا۔ گہری تدبیر گہرے غور و فکر سے حاصل ہوتی ہے، جب کہ شور و غل آدمی کو اس قابل ہی نہیں رکھتا کہ وہ کسی معاملہ میں گہرائی کے ساتھ غور کر سکے۔ صبر کب تک ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ آپ الرسالہ میں اکثر صبر کی تلقین کرتے ہیں۔ آخر یہ صبر کب تک۔ میں نے کہا کہ آپ کے سوال کا جواب دینے سے پہلے میں خود آپ سے ایک بات پوچھتا ہوں۔ آپ پہلے میرے سوال کا جواب دیں۔ اس کے بعد میں اس بات کی وضاحت کروں گا جو آپ نے دریافت فرمائی ہے۔ پھر میں نے کہا کہ اسلام میں پانچ وقت کی نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر ایک شخص آپ سے پوچھے کہ آخر یہ پانچ وقت کی نماز کب تک پڑھی جاتی رہے گی تو آپ ایسے شخص کو کیا جواب دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ نماز تو اللہ کی عبادت ہے۔ اس کی کوئی آخری حد نہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page