خاموش تدبیر
Urdu book, p. 278
By Maulana Wahiduddin Khan
نمازہر آدمی کو ساری عمر ادا کرنا ہے، یہاں تک کہ اس کی موت کا وقت آجائے۔ میں نے کہا کہ یہی آپ کے سوال کا جواب بھی ہے۔ صبر بھی اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے۔ آدمی کو اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک صبر کی روش اختیار کرنا ہے۔ موت سے پہلے کسی سے یہ حکم رفع نہیں ہوتا۔ ایک مسلمان کو جس طرح نماز پڑھنا ہے، اسی طرح اس کو صبر بھی کرنا ہے۔ آپ دیکھئے ۔ قرآن میں نماز کا حکم جن لفظوں میں دیا گیا ہے، ٹھیک انھیں لفظوں میں صبر کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ نماز کے بارے میں قرآن میں ہے کہ : فَصَلّ لِرَبِّكَ (2 :108) ۔ اسی طرح صبر کے بارے میں قرآن میں فرمایا کہ: وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرُ (7: 7)۔ اس سے معلوم ہوا کہ نماز بھی اللہ کے لیے ہے اور صبر بھی اللہ کے لیے۔ دونوں ہی مومن کی پوری زندگی کا کورس ہیں۔ دونوں ہی کی حد اس وقت آتی ہے، جب کہ خود مومن کی زندگی کی حد آجائے۔ صبر با مقصد انسان کا اخلاق ہے۔ مومن سب سے بڑا با مقصد انسان ہوتا ہے۔ اس لیے مومن سب سے زیادہ صبر والا ہوتا ہے۔ ایمان آدمی کے دل کو نرم کرتا ہے۔ وہ آدمی کو دوسروں کا خیر خواہ بناتا ہے۔ وہ آدمی کے اندر تواضع اور اعتراف کی صفت پیدا کرتا ہے۔ وہ آدمی کے اندر یہ جذبہ ابھارتا ہے کہ وہ دوسروں کے لیے نفع بخش بنے۔ ان صفتوں کے ساتھ جو اخلاقی روش مناسب رکھتی ہے، وہ صبر ہی ہے۔ صبر کے بغیر کوئی شخص کبھی ان اعلیٰ صفات پر قائم نہیں رہ سکتا۔ صبر ایک پیغمبرانہ عمل ایک صاحب نے ماہنامہ الرسالہ میں ایک مضمون پڑھا ۔ اس میں قرآن کے حوالے سے صبر کے طریقے کی اہمیت بتائی گئی تھی۔ وہ اس مضمون کو پڑھ کر غصہ ہو گئے، انھوں نے کہا کہ صبر کب تک ، ہمارے اوپر ظلم ہو رہا ہے تو ہم کب تک صبر کریں۔ ہمیں ظلم کے خلاف لڑنا ہے۔ ظلم کے خلاف صبر کرنا، بزدلی ہے، نہ کہ صبر۔ صبر بزدل کا ہتھیار ہے، وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader