Urdu book · تعمیرِ شخصیت

خاموش تدبیر

Urdu book, p. 279

By Maulana Wahiduddin Khan

مظلوم کا ہتھیار نہیں۔ اگر ہر حال میں صبر کیا جائے تو صرف ظالموں کے لیے اس دنیا میں جگہ ہوگی، مظلوموں کے لیے خدا کی بنائی ہوئی اس دنیا میں کوئی جگہ باقی نہ رہے گی۔ جو لوگ اس طرح سوچتے ہیں، میرے نزدیک وہ اس بات کو نہیں جانتے کہ صبر کوئی مجبوری کی چیز نہیں۔ صبر بہادر آدمی کا طریقہ ہے۔ صبر دانش مند آدمی کا ہتھیار ہے۔ صبر تمام پیغمبروں کا طریقہ ہے (ابراہیم، 14:12)۔ حتیٰ کہ خود اللہ رب العالمین کا بھی ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 6099)۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس دنیا میں صبر کرنے والوں کو ہمیشہ کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ جو لوگ بے صبری کا طریقہ اختیار کریں، وہ آخر کار ہمیشہ ناکام ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس معاملہ کا عزت نفس سے کوئی تعلق نہیں۔ عزتِ نفس (self respect) کا لفظ صرف نادانوں کی ڈکشنری میں پایا جاتا ہے۔ جو لوگ صبر کو بزدلی کہتے ہیں، وہ اپنے نقطہ نظر کو بتانے کے لیے غلط لفظ استعمال کرتے ہیں۔ ایسے لوگ قرآن کی اس آیت کے مصداق ہیں: وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا ائْتِ بِقُرْآنٍ غَيْرِ هَذَا أَوْ بَدِّلْهُ (10:15)۔ یعنی، اور جب ان کو ہماری کھلی ہوئی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو جن لوگوں کو ہمارے پاس آنے کا کھٹکا نہیں ہے، وہ کہتے ہیں کہ اس کے سوا کوئی اور قرآن لاؤ یا اس کو بدل دو۔ اسی طرح ایسے لوگوں کو چاہیے کہ وہ قرآن کی اس آیت پر غور کریں: وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَى بِآيَاتِنَا أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّوْرِ وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ (14:5)۔ یعنی، اور ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا کہ اپنی قوم کو اندھیروں سے نکال کر اجالے میں لاؤ اور ان کو اللہ کے دنوں کی یاد دلاؤ۔ بیشک ان کے اندر بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page