Urdu book · تعمیرِ شخصیت

خاموش تدبیر

Urdu book, p. 280

By Maulana Wahiduddin Khan

صبر اور امن نان وائلنس اپنی حقیقت کے اعتبار سے عین وہی چیز ہے جس کو قرآن میں صبر کہا گیا ہے۔ صبر دراصل مثبت ردِ عمل کا دوسرا نام ہے۔ ناخوش گوار حالات میں منفی ردِ عمل سے اپنے آپ کو بچانا اور یک طرفہ طور پر اپنے آپ کو مثبت ردِ عمل پر قائم رکھنا، یہی صبر کی حقیقت ہے۔ چونکہ اس اخلاقی روش پر قائم ہونے کے لیے برداشت کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے اس کو شریعت میں صبر کا نام دیا گیا۔ 23 جولائی 1993ء کو میں نے جمعہ کی نماز دہلی کی مسجد سنگ تراشان پہاڑ گنج میں پڑھی۔ اس مسجد کے چاروں طرف صد فی صد ہندوؤں کی آبادی ہے۔ 1947ء کے بعد یہ مسجد بند ہو گئی تھی۔ یہاں محلہ کے لوگ کوڑا ڈالا کرتے تھے۔ 1982ء میں دہلی کے ایک مسلمان جناب محمود سعید بلالی (پیدائش 1953ء) کو خیال ہوا کہ اس مسجد کو واگزار کیا جائے۔ انھوں نے کوشش کر کے اس مسجد کو کھلوایا۔ اس کی صفائی اور مرمت کرائی۔ اب سوال یہ تھا کہ اس کو آباد کس طرح کیا جائے ۔ کیوں کہ یہاں قریب میں کوئی مسلمان نہیں ۔ چنانچہ انھوں نے ایک استاد رکھ کر یہاں ایک مدرسہ قائم کر دیا۔ دو درجن مسلمان بچے یہاں رہنے اور پڑھنے لگے۔ اس طریقہ یہاں پنج وقتہ نماز قائم ہو گئی۔ محمود سعید بلالی صاحب (3260028 .Tel) نے اپنے واقف کاروں کے حلقہ میں اس مسجد کے بارے میں بتایا تو جمعہ کے دن کافی لوگ یہاں آنے لگے۔ یہاں تک کہ مسجد نمازیوں سے بھر جاتی تھی۔ بلال صاحب نے طلبہ اور نمازیوں کی سہولت کے لیے یہ منصوبہ بنایا کہ صحن کے نصف حصہ میں چھت ڈال کر ایک سائبان بنا دیا جائے۔ انھوں نے کام شروع کر دیا۔ سانچہ بن گیا اور اس پر چھت کی تعمیر کی جانے لگی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page