Urdu book · تعمیرِ شخصیت

خاموش تدبیر

Urdu book, p. 281

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ 9 مارچ 1991 کا واقعہ ہے۔ اچانک تقریباً ڈیڑھ سو ہندو جمع ہوگئے، جن میں زیادہ تر نوجوان تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہم چھت بننے نہیں دیں گے۔ تم اس چھت کو اتارو، ورنہ یہاں خون ہو جائے گا اور تمھاری مسجد بھی باقی نہیں رہیگی۔ ایک طالب علم نے پولیس اسٹیشن جا کہ انہیں خبر کر دی۔ اس کے بعد بڑی تعداد میں پولیس آگئی۔ ان میں پولیس افسران بھی تھے۔ پولیس نے موقع کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ یہ تعمیر قانون کے دائرہ میں ہو رہی ہے، اس لیے کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔ پولیس نے مسلمانوں سے کہا کہ تم لوگ چھت بناؤ، ہم یہاں کھڑے ہوئے ہیں۔ محمود سعید بلالی نے سوچا کہ اگر میں پولیس کے کہنے سے چھت کا کام جاری رکھوں تو یہ پولیس والے یہاں کب تک میری حفاظت کریں گے، آخر کار تو سابقہ انہیں پڑوس کے ہندوؤں سے رہے گا۔ اور وہ چھت تو کیا، مسجد بھی توڑ کر رکھ دیں گے۔ اور کوئی انہیں روک نہ سکے گا۔ بلالی صاحب انھیں خیالات میں تھے کہ ہند ومجمع میں سے ایک بوڑھا آدمی آگے آیا۔ اس نے کہا کہ میاں جی، اس وقت یہ لوگ بہت جوش میں ہیں۔ وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ تم ضد نہ کرو اور اپنی چھت اتار دو۔ بلالی صاحب نے فوراً اس کو استعمال کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ بڑے میاں جس طرح تمھارے بڑے ہیں، اسی طرح وہ میرے بھی بڑے ہیں۔ میں ان کی بات مانتا ہوں۔ اور اسی وقت اپنے مزدوروں سے کہہ دیا کہ چھت اتار دو۔ چنانچہ چھت اتار دی گئی۔ اس وقت تک اس چھت پر 25 ہزار روپے خرچ ہو چکے تھے۔ اس واقعہ کا علاقہ کے تمام ہندوؤں پر بہت اچھا اثر پڑا۔ سب کے سب مسجد اور مسجد والوں کے ہمدرد بن گئے۔ اب یہاں لاؤڈ اسپیکر کی اذان کے ساتھ پنج وقتہ نماز ہوتی ہے۔ باقاعدہ جمعہ ہوتا ہے۔ اسلامی تعلیم کا ایک مدرسہ چل رہا ہے۔ رمضان میں شاندار تراویح

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page