خاموش تدبیر
Urdu book, p. 282
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوتی ہے، وغیرہ۔ مگر ہندوؤں کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں۔ وہ لوگ اکثر کہتے رہتے ہیں کہ آپ کی کوئی ضرورت ہو تو ہم کو بتائیے ۔ اگر کوئی ہندو آپ کو پریشان کرے تو فوراً ہم کو بتائیے ۔ ہم اس سے نمٹ لیں گے۔ 6 دسمبر 1992ء کو جب یہ خبر پھیلی کہ ایودھیا کی بابری مسجد توڑ دی گئی، ساری دہلی میں تناؤ کی صورت پیدا ہو گئی۔ کئی جگہ ہندو مسلم فسادات بھی ہوئے۔ اس علاقہ میں بھی تناؤ کی حالت تھی۔ جبکہ اس وقت مسجد میں 23 مسلم بچے موجود تھے۔ محمود سعید بلالی صاحب اس وقت جامع مسجد کے علاقہ میں تھے اور کچھ کر نہیں سکتے تھے۔ مگر پڑوس کے ہندوان کا بدل بن گئے۔ وہ خود مسجد میں آئے۔ بچوں کو لے جا کر ایک قریبی اسکول میں رکھا۔ ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا۔ اور پھر تمام بچوں کو حفاظت کے ساتھ ان کے گھروں تک پہنچایا۔ بلالی صاحب اگر ضد کرتے اور اکڑ دکھاتے تو دوسری طرف بھی ضد اور اکڑ پیدا ہوتی۔ اور پھر فساد برپا ہو جاتا۔ مگر جب انھوں نے نرمی اور تواضع کا انداز اختیار کیا تو دوسری جانب بھی نرمی اور تواضع پیدا ہو گئی۔ اس کے بعد فساد کا ماحول امن کے ماحول میں تبدیل ہو گیا۔ بے صبری کا نتیجہ 15 جنوری 1986ء کا واقعہ ہے ۔ انڈین ایر لائنز کا ایک جہاز (فلائٹ نمبر 406) بمبئی سے دہلی کے لیے اڑا۔ مگر صرف پندرہ منٹ بعد وہ واپس ہوا اور دوبارہ بمبئی کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ یہ جہاز کسی ٹیکنکل سبب سے آدھ گھنٹہ لیٹ ہو گیا تھا۔ جہاز جب اوپر فضا میں پہونچا تو اس کے ایک مسافر نے کیپٹن بھٹناگر کے نام ایک نوٹ بھیجا کہ وہ بتائے کہ جہاز کیوں آدھ گھنٹہ لیٹ روانہ ہوا ہے۔ کیپٹن نے مذکورہ مسافر کو کاک پٹ میں بلایا اور وضاحت کرنے کی کوشش کی کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader