Urdu book · تعمیرِ شخصیت

خاموش تدبیر

Urdu book, p. 283

By Maulana Wahiduddin Khan

لیٹ ہونے کی وجہ کیا تھی۔ مسافر اس کی وضاحت سے مطمئن نہیں ہوا اور کیپٹن کی پیٹھ پر گھونسا مار کر کہا کہ میں نے تمہارے جیسے بہت پائلٹ دیکھے ہیں : I have seen many pilots like you. کیپٹن بھٹناگر اس صورت حال سے گھبرا اٹھے۔ انھوں نے فوراً جہاز کو موڑ دیا اور اس کو واپس لا کر دوبارہ بمبئی کے ہوائی اڈہ پر اتار دیا۔ اس کے بعد بمبئی کے ہوائی اڈہ پر کافی دیر تک ہنگامہ رہا۔ بالآخر انڈین ایرلائنز کے ذمہ داروں نے جہاز کو دوسرے پائلٹ کے ذریعہ روانہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مذکورہ جہاز جب بمبئی سے دہلی پہنچا تو وہ تین گھنٹہ لیٹ ہو چکا تھا۔ مسافر نے آدھ گھنٹہ کی تاخیر برداشت نہ کی۔ اس کی قیمت انھیں یہ دینی پڑی کہ وہ تین گھنٹہ تاخیر کے ساتھ اپنی منزل پر پہنچے۔ مزید یہ کہ انڈین ایرلائنز کے ذمہ داروں نے ایک اعلیٰ سطحی انکوائری (high-level inquiry) بٹھائی ہے (ٹائمز آف انڈیا، ہندوستان ٹائمز، 16 جنوری 1986ء)۔ مذکورہ مسافر بالفرض کسی سزا سے بچ جائیں، تب بھی وہ ایک انجام سے بچ نہیں سکتے۔ اسی چیز کی اور زیادہ قیمت دینا جس کی تھوڑی قیمت دینے پر وہ راضی نہیں ہوئے، یعنی وقت۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے مقصد کو حاصل کر رہا ہے۔ حالاں کہ وہ اپنے مقصد کو کھورہا ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں اپنی منزل کی طرف تیزی سے بڑھ رہا ہوں۔ حالاں کہ اس کی تیزی کا انجام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی منزل سے کچھ اور دور ہو جائے۔ صبر کا پھل نسیم علی خاں صاحب (پیدائش 1959ء) گیارہ سال سے بمبئی میں رہتے ہیں۔ 23 اگست 1990ء کی ملاقات میں انھوں نے ایک واقعہ بتایا جو بہت سبق آموز ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page