Urdu book · تعمیرِ شخصیت

خاموش تدبیر

Urdu book, p. 284

By Maulana Wahiduddin Khan

بمبئی میں سیوری کراس روڈ کے علاقہ میں ”مقدس مسجد“ کے نام سے ایک مسجد ہے۔ یہاں پچھلے 25 سال سے تبلیغی جماعت کا کام ہورہا تھا۔ تین سال پہلے کی بات ہے، ایک روز سنی (بریلوی) مسلمانوں کی ایک جماعت اچانک مسجد میں آگئی۔ یہ جمعہ کا دن تھا، وہ کھڑے ہو کر سلام پڑھنے لگے۔ دوسرے مسلمانوں نے انھیں روکا۔ اس پر بات بڑھی، اور پولیس بلانی پڑی۔ بریلوی حضرات کے مطالبہ پر آخر کار یہ طے ہوا کہ وہ سلام نہیں پڑھیں گے، مگر تبلیغی جماعت والے بھی یہاں اپنی کتاب پڑھنا بند کر دیں گے۔ اس پر تبلیغ والے راضی ہو گئے۔ اب مسجد میں تبلیغ والوں کی کتاب کا پڑھنا بند ہو گیا۔ تاہم تبلیغ والوں نے اپنا کام بند نہیں کیا۔ اب وہ مسجد کے دروازہ پر اپنا پروگرام کرنے لگے۔ تبلیغ والوں نے کوئی جوابی کارروائی نہیں کی۔ البتہ اخلاقی تدبیریں کرتے رہے۔ مثلاً ایک بار انھوں نے سیوری کے سنی مسلمانوں کے سرکردہ افراد کو کھانے پر بلایا۔ ان کے لیے عمدہ طریقہ پر دعوت کا انتظام کیا، وغیرہ۔ یہ سلسلہ تقریباً ڈیڑھ سال تک جاری رہا۔ تبلیغ والے صبر کے ساتھ مسجد کے باہر اپنا پروگرام کرتے رہے۔ اسی کے ساتھ خوش اخلاقی اور خوش تدبیری کے ذریعہ ان کے دلوں کو نرم بھی کرتے رہے۔ آخر کار تمام مخالف لوگ نرم پڑ گئے، یہاں تک کہ انھوں نے تبلیغ والوں کو اجازت دے دی کہ وہ مسجد کے اندر آ کر اپنا پروگرام کر سکتے ہیں۔ یہی موجودہ دنیا میں کام یابی کا طریقہ ہے۔ اسی کے ذریعہ تمام مسئلے حل ہو سکتے ہیں، خواہ وہ مسئلہ مسلمان اور مسلمان کے درمیان پیدا ہوا ہو یا مسلمان اور ہندو کے درمیان۔ موجودہ دنیا آزادی کی دنیا ہے۔ یہاں ہر ایک کو اپنی مرضی کے مطابق عمل کرنے کا اختیار ہے۔ اس لیے یہاں ایک دوسرے کے درمیان اختلاف کا پیش آنا عین فطری ہے،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page