خاموش تدبیر
Urdu book, p. 285
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا حل ٹکراؤ میں نہیں۔ اس کا واحد حل وہی ہے جس کو حکمت اعراض“ کہا جاتا ہے۔ صبر کی ضرورت مغل حکمران اورنگ زیب کو اپنے والد شاہ جہاں سے سیاسی اختلاف ہوا۔ 1658ء میں اس نے شاہ جہاں کو تخت سے بے دخل کر کے آگرہ کے قلعہ میں قید کر دیا۔ اسی حال میں شاہ جہاں 1666ء میں 74 سال کی عمر میں مرگیا۔ اسیری کے زمانہ میں اس کی بہن جہاں آراء بھی قلعہ میں اس کے ساتھ تھی۔ شاہ جہاں آگرہ کے قلعہ سے تاج محل کو دیکھا کرتا تھا اور اشعار پڑھتا رہتا تھا۔ ڈاکٹر آرسی مجمدار، ڈاکٹر ایچ سی رائے چودھری اور ڈاکٹر کالی کنکر دتانے اپنی مشترک کتاب تاریخ ہند (An Advanced History of India) میں شاہ جہاں کے آخری حالات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس نے مذہب میں اپنی تسکین کا سامان پا لیا۔ اور صبر کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے اپنے آخری ایام اپنی پارسا لڑکی جہاں آراء کے ساتھ عبادت اور مراقبہ میں گزار دیے، یہاں تک کہ وہ مرگیا: He found solace in religion, and, in a spirit of resignation, passed his last days in prayer and meditation in the company of his pious daughter Jahanara, till his death (p. 477). کہا جاتا ہے کہ ایک عرصہ کے بعد شاہ جہاں قید کی زندگی سے گھبرا اٹھا۔ اس نے اورنگ زیب کو ایک مصرعہ لکھ کر بھیجا، جس کا مطلب یہ تھا کہ یا تو ہم کو مار ڈالو یا دام دو یا پھر ہم کو آزاد چھوڑ دو: یا بکش یا دام ده یا از قفس آزاد کن اورنگ زیب نے بھی اس کے جواب میں ایک اور مصرعہ لکھ کر شاہ جہاں کے پاس بھیج

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader