خاموش تدبیر
Urdu book, p. 286
By Maulana Wahiduddin Khan
دیا جو یہ تھا کہ ہوشیار چڑیا جب جال میں پھنس جائے تو اس کو برداشت سے کام لینا چاہیے۔ مرغ زیرک چون بدام افتدم بایدش ہو سکتا ہے کہ یہ واقعہ نہ ہو، صرف ایک لطیفہ ہو۔ تاہم یہ بذات خود ایک حکمت کی بات ہے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کسی غلطی یا کسی حادثہ کی بناء پر ایک ایسی صورت حال میں پھنس جاتا ہے، جو اس کے لیے عام حالات میں بالکل ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ مگر اب جہاں وہ پھنس گیا ہے، وہاں سے فوری طور پر نکلنا عملاً ممکن نہیں ہوتا۔ ایسی حالت میں گھبرا کر کوئی اقدام کرنا سراسر نادانی ہے۔ جال میں پھنسنے کے بعد چڑیا اگر پر پھڑپھڑائے تو وہ اور زیادہ پھنستی چلی جاتی ہے، اسی طرح کسی نازک صورت حال میں پھنس جانے کے بعد آدمی اگر بے صبری کے ساتھ کارروائی کرے تو وہ اور زیادہ اس میں الجھ جائے گا۔ حکمت کا یہ اصول افراد کے لیے بھی ہے اور قوموں کے لیے بھی۔ مسائل پر صبر ایک بستی تھی۔ وہاں کے لوگ بہت تیز زبان تھے۔ وہاں دو آدمیوں نے دکان کھولی۔ ایک نوجوان تھا اور دوسرا بوڑھا۔ نوجوان کی دکان جلد ہی ختم ہو گئی۔ بوڑھے کی دکان چلتی رہی۔ آج وہ اس بستی میں سب سے بڑا دولت مند بنا ہوا ہے۔ اب ہر آدمی اس سے ادب کے ساتھ بات کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ نوجوان دکان دار نے جب دیکھا کہ جو گاہک آتا ہے وہ تیز زبان میں بات کرتا ہے تو اس نے لوگوں کی تیز کلامی کے خلاف جنگ شروع کر دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے خلاف لوگوں کی تیز کلامی تیز دستی تک پہنچ گئی۔ لوگوں نے اس کو پکڑ کر مارا، یہاں تک کہ وہ دکان بند کر کے وہاں سے بھاگ گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader