خاموش تدبیر
Urdu book, p. 287
By Maulana Wahiduddin Khan
بوڑھے دکان دار کی کامیابی کا راز یہ تھا کہ اس نے لوگوں کی تیز زبان اور درشت کلام کو نظر انداز کیا۔ اس نے اپنی نظر صرف لوگوں کی جیب پر رکھی، اور لوگوں کی زبان سے اپنی نظر ہٹالی۔ اسی پالیسی کا نتیجہ تھا کہ اس نے اپنی دکان داری میں شاندار کامیابی حاصل کی۔ یہ دنیا کی کامیابی کا واقعہ ہے ۔ آخرت کی کامیابی کا اصول بھی یہی ہے ۔ آخرت کی کامیابی کے لیے بھی اسی طرح لوگوں کی زیادتیوں پر صبر کرنا پڑتا ہے۔ جو شخص دنیا میں صبر کا طریقہ اختیار نہ کرے، اس کے لیے آخرت کی تجارت کو کامیاب بنانا ممکن نہیں۔ آخرت کی کامیابی کے لیے اہلِ ایمان کو جو فرض سونپا گیا ہے، وہ دعوت الی اللہ ہے۔ اسی فرض کی انجام دہی پر ان کو وہ کامیابی ملنے والی ہے جس کو آخرت کی جنت کہا گیا ہے۔ نیز جب اہلِ ایمان یہ خدائی ذمہ داری ادا کرتے ہیں تو ابتدائی انعام کے طور پر انھیں دنیا میں بھی سر بلندی دے دی جاتی ہے۔ لیکن اگر وہ صبر پر قائم نہ ہو سکیں تو وہ دنیا میں بھی محروم رہتے ہیں اور آخرت میں بھی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا کیس، ایک لفظ میں، یہ ہے کہ جن باتوں پر انھیں صبر کرنا تھا ان پر وہ لڑ رہے ہیں، اور اس کو غلط طور پر جہاد کہتے ہیں۔ اس دنیا میں لازماً ایسا ہو گا کہ مسلمانوں کو دوسروں کی طرف سے زیادتیوں کا تجربہ ہوگا۔ اہلِ ایمان کو لازماً ایسا کرنا ہے کہ وہ مسائل سے اپنی نظریں ہٹا لیں اور اپنی ساری توجہ صرف فرض کی ادائیگی پر لگا دیں۔ بے صبری نہیں میں نے اپنی پوری زندگی مطالعہ میں گزاری ہے۔ میں نے جب انسانی تاریخ کا مطالعہ کیا تو مجھے سمجھ میں آیا کہ وہی انسان کامیاب ہو سکتا ہے، جو مستقل مزاج ہو۔ لیکن جس کے اندر گراس ہاپر (grasshopper) والا مزاج ہو، یعنی جو مستقل مزاجی کے ساتھ کسی ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader