Urdu book · تعمیرِ شخصیت

خاموش تدبیر

Urdu book, p. 296

By Maulana Wahiduddin Khan

جواب اس سلسلہ میں پہلی بات یہ کہ قرآن میں پیغمبروں کی زبان سے ارشاد ہوا ہے کہ : وَلَنَصْبِرَنَّ عَلَى مَا آذَيْتُمُونَا (14:12) ۔ یعنی ، تمہاری ایذاؤں پر ہم صبر ہی کریں گے۔ اگر ظلم وزیادتی پر صبر کرنا اس کو بڑھاوا دینے کے ہم معنی ہوتا تو پیغمبروں کو کبھی اللہ کی طرف سے یہ تعلیم نہ دی جاتی جو مذکورہ آیت کے مطابق انہیں دی گئی۔ اصل یہ ہے کہ جب کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو لوگ عام طور پر اس کے خلاف جوابی کارروائی کو تدبیر سمجھتے ہیں مگر یہ صرف ایک جذباتی ردِ عمل ہے۔ جس کا نتیجہ ہمیشہ الٹا نکلتا ہے۔ ایسے مواقع پر جوابی کارروائی صرف مسئلہ کو بڑھاتی ہے۔ وہ فریق ثانی کے اندر ضد اور انتقام کی آگ بھڑک کر مسئلہ کو شدید تر بنادیتی ہے۔ وہ کسی حال میں مسئلہ کا حل نہیں۔ صبر کا مطلب عدم عمل نہیں ، صبر کا مطلب زیادہ مؤثر عمل ہے۔ صبر اور بے صبری میں یہ فرق ہے کہ بے صبر آدمی پیش آمدہ مسئلہ کو جذباتی تدبیر کے ذریعہ حل کرنا چاہتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں صبر والا آدمی حکیمانہ تدبیر کے ذریعہ مسئلہ کا حل نکالنے کی کوشش کرتا ہے، بے صبری کا طریقہ ہمیشہ ناکام ہوتا ہے اور صبر کا طریقہ ہمیشہ کامیاب ۔ اس معاملہ کی ایک معلوم اور معروف مثال یہ ہے کہ ہر سال ہندو لوگوں کی طرف سے گن پتی کا جلوس نکلتا ہے۔ ابتدا ء مسلمان یہ کرتے تھے کہ گن پتی کا جلوس جب ان کی مسجد کے سامنے سے گزرتا تو وہ روک ٹوک کرتے۔ وہ جلوس کی روٹ بدلنے کی مانگ کرتے۔ اس کے نتیجہ میں دونوں فرقوں کے درمیان ٹکراؤ ہوتا اور خونی فساد کی نوبت آجاتی۔ اب اللہ کا فضل ہے کہ الرسالہ کی تعمیری مہم کے نتیجہ میں اس معاملہ میں مسلمان صبر واراض کی حکمت کو سمجھ گئے ہیں۔ چنانچہ اب بھی ہر سال پہلے کی طرح گن پتی کا جلوس نکلتا ہے۔ جلوس والے اب بھی وہی کرتے ہیں جو وہ پہلے کرتے تھے۔ مگر اب کئی سالوں سے گن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page