Urdu book · تعمیرِ شخصیت

خاموش تدبیر

Urdu book, p. 297

By Maulana Wahiduddin Khan

پتی کے جلوس کے موقع پر فرقہ وارانہ فساد کا ہونا تقریباً بند ہو گیا ہے۔ اس کا سبب صرف یہ ہے کہ اب مسلمان گن پتی کے جلوس کے موقع پر صبر و اعراض کا فارمولہ اختیار کرتے ہیں، جب کہ اس سے پہلے وہ بے صبری اور جذباتیت کا طریقہ اختیار کیے ہوئے تھے۔ سوال قرآن کریم کو آپ نے کتاب الصبر فرمایا ہے۔ یہ قول ان کے مقابلے میں نہایت وزنی ہے جو اس کو کتاب الجہاد سمجھتے ہیں اور اسی انداز میں اس کو متعارف کراتے ہیں۔ جہاں تک حقیقتِ واقعہ کا تعلق ہے تو میرے نزدیک کتاب الجہاد کہنا اگر افراط ہے تو کتاب الصبر قرار دینا تفریط۔ قرآن کے لیے اگر ہمیں اس طرح کی کسی وضاحت کی واقعی ضرورت ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ اسے کتاب الاعتدال کہنا چاہیے اور اس کے نتیجہ میں جو مذہب وجود میں آتا ہے اسے مذہب اعتدال سے متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ (محمد عمران مظاہری، مدرسہ حسینیہ، اغوان پور، میرٹھ) جواب آپ نے صبر کو بہت محدود معنیٰ میں لیا ہے اس لیے آپ نے ایسا فرمایا۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاد خود صبر ہے۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں اہل ایمان کو سو میں ننانوے بار صبر کرنا پڑتا ہے اس کے بعد جہاد کا موقع آتا ہے۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں ایمان کے تقاضوں پر زندگی گزارنے کے لیے صبر لازمی شرط ہے۔ مثلاً اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے بھی صبر درکار ہے۔ کیوں کہ اگر آپ کھوئے ہوئے پر صبر نہ کریں تو ملے ہوئے پر حقیقی جذبہ شکر کا اظہار آپ کی زبان سے نہیں ہو سکتا۔ دعوت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page