خاموش تدبیر
Urdu book, p. 298
By Maulana Wahiduddin Khan
کے لیے صبر لازمی شرط ہے۔ کیوں کہ مدعو کی زیادتیوں پر یک طرفہ صبر کے بغیر آپ سچے داعی نہیں بن سکتے۔ نماز بھی آپ خشوع کے ساتھ صرف اُس وقت پڑھ سکتے ہیں جب کہ آپ دنیوی تقاضوں پر صبر کر کے اللہ کی طرف متوجہ ہو گئے ہوں۔ انفاق بھی آپ اسی وقت کر سکتے ہیں جب کہ آپ مال کی محبت کے جذبات پر صبر کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اسی طرح حج مبرور بھی اسی وقت کیا جا سکتا ہے جب کہ سفر حرج کے دوران پیش آنے والے مکارہ پر صبر کیا جائے۔ اسی طرح اسلامی اخلاق کے اصولوں پر عمل اسی وقت ممکن ہے جب کہ لوگوں کی طرف سے پیش آنے والی شکایتوں پر صبر کیا جائے۔ یہی معاملہ خود جہاد کا ہے۔ جہاد کا آغاز دوسروں کے خلاف قتال سے نہیں ہوتا بلکہ خود اپنے نفس پر کنٹرول کرنے سے ہوتا ہے۔ مومن دوسروں کی قابل شکایت باتوں پر صبر کرتے ہوئے اس کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کرتا ہے۔ مومن دوسروں کی زیادتیوں پر صبر کرتے ہوئے اس کو دعوت کا مخاطب بناتا ہے۔ مومن دوسروں کے جارحانہ عزائم کو یک طرفہ اعراض کے ذریعے بے اثر بناتا رہتا ہے اور اگر بالفرض جنگ کی نوبت آجائے تب بھی مومن یہ کرتا ہے کہ وہ صرف حملہ آور پر ہاتھ اُٹھاتا ہے۔ بوڑھوں، بچوں اور عورتوں کو پھر بھی مومن اپنی زد سے محفوظ رکھتا ہے۔ مومن اپنے منفی جذبات کو یک طرفہ طور پر دبا کر غیر حملہ آوروں کو نقصان پہنچانے سے بچتا ہے۔ صبر کی ان تمام کارروائیوں کے باوجود جو جہاد کیا جائے وہی دراصل اسلامی جہاد ہے۔ جہاد خود ایک صابرانہ عمل ہے، نہ کہ غیر صابرانہ عمل۔ جہاد بمعنی قتال ایک استثنائی حکم ہے اور صبر ایک عمومی حکم۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ قرآن کا عنوان بحیثیت عموم کے اعتبار سے متعین کیا جائے گا، نہ کہ استثناء کے اعتبار سے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader