خاموش تدبیر
Urdu book, p. 299
By Maulana Wahiduddin Khan
سوال بمبئی کے ایک روزنامہ میں آپ کے خلاف ایک مضمون چھپا ہے۔ اس مضمون کا عنوان یہ ہے ”مولانا وحید الدین صاحب! صلح حدیبیہ سے پہلے بیعت رضوان بھی ہے“۔ مضمون میں بتایا گیا ہے کہ مولانا وحید الدین صاحب مسلمانوں کو صلح حدیبیہ کی نصیحت کرتے ہیں ۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ صلح حدیبیہ سے پہلے بیعت رضوان ہوئی تھی جس میں صحابہ نے جہاد پر بیعت کی تھی۔ اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ یہ سوال یہاں کئی لوگوں کے ذہن میں آرہا ہے۔ (فاروق فیصل، بمبئی) جواب بیعت رضوان اگر بالفرض بیعت جہاد ہو تب بھی میری بات ثابت شدہ ہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”بیعت جہاد“ کے باوجود صلح حدیبیہ کو قبول فرمایا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس سے پہلے کی بیعت، اگر بالفرض وہ جہاد کی بیعت ہو، تب بھی وہ سنت رسول کے مطابق منسوخ قرار پائے گی۔ کیوں کہ اس موقع پر آپ کا جو آخری عمل تھا وہ جہاد کا نہ تھا، بلکہ صلح کا تھا۔ مگر اصل حقیقت یہ ہے کہ بیعتِ رضوان کے نام پر حدیبیہ کے مقام پر جو بیعت ہوئی وہ جہاد یا قتال کی بیعت نہ تھی بلکہ وہ صرف عدم فرار کی بیعت تھی۔ چنانچہ بیعت میں شامل ہونے والے صحابی کہتے ہیں کہ ــــ لَمْ نُبَايِعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَوْتِ، إِنَّمَا بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لَا نَفِرَّ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1856) ۔ یعنی، ہم نے رسول اللہ سے موت کی بیعت نہیں کی تھی، ہم نے آپ سے صرف اس پر بیعت کی کہ ہم فرار اختیار نہیں کریں گے۔ دوسرے الفاظ میں یہ ہے کہ اگر فریق ثانی کی طرف سے عملی جارحیت کی صورت پیش آجائے تو ہم مقابلہ کا طریقہ اختیار کریں گے، نہ کہ فرار کا طریقہ۔ اس معاملہ میں اگر سنجیدگی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader