Urdu book · تعمیرِ شخصیت

خاموش تدبیر

Urdu book, p. 300

By Maulana Wahiduddin Khan

کے ساتھ غور کیا جائے تو اس کے سوا کوئی اور مطلب اس کا نہیں نکلتا۔ یعنی اگر فرار اور عدم فرار کے درمیان انتخاب (option) کا معاملہ ہو تو فرار کو چھوڑ کر عدم فرار کے طریقہ کو اختیار کیا جائے گا۔ اسی طرح اگر جنگ اور صلح کے درمیان انتخاب ہو تو صلح کا طریقہ اختیار کیا جائے گا، نہ کہ جنگ کا طریقہ۔ سوال آپ نے اپنی تحریروں میں لکھا ہے کہ حدیث کی کتابوں میں ابواب الفتن کے تحت بیان کردہ روایات میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگی طور پر فرما دیا تھا کہ تم اپنے حکمرانوں کے خلاف خروج (بغاوت) نہ کرنا۔ تم ہر حال میں صبر کے اصول پر قائم رہنا۔ تم کسی بھی عذر کو لے کر حکمرانوں سے لڑائی نہ کرنا، بلکہ اپنی بکری اور اونٹ میں مشغول ہو کر اپنے ضروری دینی فرائض کو ادا کرتے رہنا (فکر اسلامی، صفحہ : 153)۔ لیکن بہت سی روایات میں آپ کے اس نقطۂ نظر کے برعکس ہدایات ملتی ہیں۔ مثال کے طور پر صحیح ابن حبان میں ہمیں یہ حدیث پڑھنے کو ملتی ہے: 1- عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنَّا قُعُوداً عَلَى بَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ: اِسْمَعُوا قُلْنَا: قَدْ سَمِعْنَا قَالَ : اِسْمَعُوا قُلْنَا : قَدْ سَمِعْنَا قَالَ: اِسْمَعُوا قُلْنَا: قَدْ سَمِعْنَا قَالَ : إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ فلا تصدقوهم بكذبهم ولا تعينوهم على ذكر الزَّجْرِ عَنْ تَصْدِيقِ الأُمَرَاءِ بِكَذِبِهِمْ وَمَعُونَتِهِمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ إِذْ فَاعِلُ ذَلِكَ لَا يَرِدُ الْحَوْضَ ( صحيح ابن حبان، حدیث نمبر 284)۔ یعنی، حضرت عبداللہ بن خباب اپنے والد حضرت خباب سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ہمارے پاس آئے۔ آپ نے فرمایا سنو۔ ہم نے عرض کیا یقیناً ہم نے سنا۔ آپ نے فرمایا سنو، ہم نے کہا یقیناً ہم نے سنا۔ آپ نے فرمایا، سنو،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page