خاموش تدبیر
Urdu book, p. 301
By Maulana Wahiduddin Khan
ہم نے کہا یقیناً ہم نے سنا۔ آپ نے فرمایا، بے شک میرے بعد حکمران ہوں گے، تم اُن کے جھوٹ کی تصدیق نہ کرنا اور نہ ہی ان کے ظلم کی اعانت کرنا، کیوں کہ جس نے ان کے جھوٹ کو سچ قرار دیا اور ان کے ظلم پر ان کی اعانت کی، وہ میرے پاس حوض کوثر پر نہیں آئے گا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی جھوٹی باتوں کا فریب دینے والا اور ظلم کرنے والا حکمران تمہارے اوپر مسلط ہو جائے تو اس کی کسی طرح کی بھی حمایت و اعانت نہ کرو۔ 2۔ قرآن میں آیا ہے کہ ایک مظلوم شخص کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ ظالم کے خلاف آواز حق بلند کرے اور اس دوران اگر مظلوم کی زبان سے کچھ ناشائستہ الفاظ نکل جائیں تو اللہ تعالیٰ اس کی پکڑ نہیں کرتا، کیوں کہ وہ مظلوم کی مظلومیت کو جانتا ہے اور اس کی آہ و فغاں کو سنتا ہے، اس لیے وہ درگزر سے کام لیتا ہے اور وہ ظالم کے خلاف اس کی فریاد کو قبول کرتا ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے: لَّا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَنْ ظُلِمَ ۚ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا (148: 4)۔ یعنی، اللہ بد گوئی کو پسند نہیں کرتا مگر یہ کہ کسی پر ظلم ہوا ہو، اور اللہ سننے والا، جاننے والا ہے۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں ظالم بادشاہ کا ظلم روکنے کے لیے اس کے سامنے انصاف کی بات کہنا افضل جہاد بتایا گیا ہے: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفْضَلُ الْجِهَادِ كَلِمَةُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ (سنن ابی داؤد، حدیث نمبر 4344؛ سنن ابن ماجه 4011؛ مسند احمد، حدیث نمبر 11144)۔ یعنی، حضرت ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا، سب سے افضل جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے انصاف کی بات کہنا ہے۔ کچھ لوگ اس حدیث کو دعوت الی اللہ کے معنی میں لیتے ہیں مگر حدیث کے سیاق اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader