خاموش تدبیر
Urdu book, p. 302
By Maulana Wahiduddin Khan
الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صحیح نہیں ہے۔ کیوں کہ اگر ایسا ہوتا تو پھر متنِ حدیث میں کلمہ عدل (انصاف کی بات) کے بجائے کلمہ حق (حق کی بات) کا فقرہ ہوتا۔ نیز حدیث کا آخری فقرہ سلطان جائر (ظالم بادشاہ) بھی آیا ہے جو اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ یہاں "کلمہ عدل" سے مراد دعوت الی اللہ نہیں ہے، بلکہ ایک ظالم حکمراں کو ظلم سے روکنا مراد ہے اور اس کے سامنے عدل اور انصاف کی بات کہنا ہے تا کہ وہ بھی اپنی رعایا سے عدل اور انصاف کا معاملہ کرے۔ اس طرح ان واضح دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ ظلم اور بربریت کے خلاف علم بغاوت اٹھانا اور حق اور انصاف کی خاطر اٹھ کھڑا ہونا کوئی غیر شرعی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ ایسا کرنا عین شریعت اسلامی کے مطابق ہوتا ہے۔ لیکن اگر اس ظلم پر خاموشی اختیار کی جائے تو وہ ظلم کی حمایت اور اعانت تصور کی جائے گی۔ نیز ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص ظالم حکمراں کو تقویت دینے کے لیے اس کے ساتھ چلے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ ظالم ہے تو وہ اسلام سے باہر سمجھا جائے گا۔ أَنَّ أَوْسَ بْنَ شُرَحْبِیلَ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ مَشَى مَعَ ظَالِمٍ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ ظَالِمٌ فَقَدْ خَرَجَ مِنَ الْإِسْلَامِ (شعب الایمان، حدیث نمبر 7676)۔ یعنی، حضرت اوس بن شرحبیل سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، جو شخص کسی ظالم کو تقویت پہنچانے کے لیے اس کے ساتھ چلے اور وہ یہ جانتا ہو کہ وہ ایک ظالم ہے تو وہ شخص اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ ان ساری تفصیل کے بعد سوال یہ ہے کہ آپ کی کتاب ”فکر اسلامی“ کے حوالے سے اوپر دیے گئے اقتباس اور مندرجہ بالا دوسری احادیث کے درمیان جو نمایاں اختلاف نظر آتا ہے، اُن کے درمیان کس طرح تطبیق دی جائے گی؟ (غلام نبی کشافی، سری نگر، کشمیر)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader