خاموش تدبیر
Urdu book, p. 303
By Maulana Wahiduddin Khan
جواب اگر کوئی حکمراں آپ کو ظالم نظر آئے تو شرعی اعتبار سے، اس کے خلاف عمل کی دو صورتیں ہیں— خروج اور نصیحت۔ خروج کا مطلب ہے مسلح بغاوت، اور نصیحت کا مطلب ہے پرامن خیر خواہی۔ میرے مطالعے کے مطابق، ظالم کے خلاف مسلح بغاوت حرام ہے۔ مگر جہاں تک خیر خواہانہ نصیحت کا معاملہ ہے، وہ عین جائز ہے، بشرطیکہ وہ مثبت نتیجہ پیدا کرنے والی ہو۔ ظالم حکمراں کے خلاف مسلح خروج اس لیے حرام ہے کہ وہ ہمیشہ کاؤنٹر پروڈکٹیو(counter productive) ثابت ہوتا ہے، اور جو چیز الٹا نتیجہ پیدا کرے، وہ نہ عقل کے مطابق درست ہو سکتی ہے اور نہ دین کے مطابق۔ میں ذاتی طور پر مسلح بغاوت کے خلاف ہوں، مگر جہاں تک خیر خواہانہ نصیحت کی بات ہے، میں ہمیشہ اس پر عامل رہا ہوں۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتاب، ہند۔ پاک ڈائری۔ اس معاملے میں آپ نے جو حدیثیں نقل فرمائیں، اُن سے آپ کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔ ان حدیثوں میں وہی بات کہی گئی ہے جس کا میں خود ہمیشہ قائل رہا ہوں۔ قرآن اور حدیث سے آپ نے جو حوالے دیے ہیں، ان کی وضاحت نمبر وار ذیل میں درج کی جاتی ہے۔ 1- ابن حبان کی جو روایت آپ نے نقل کی ہے، اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی حکمراں مبینہ طور پر ظالم ہو تو اہل ایمان کو یہ نہیں کرنا چاہیے کہ وہ اس کے جھوٹ کو سچ بتانے لگیں، بلکہ اُنھیں اس کے جھوٹ کو جھوٹ بتانا چاہیے۔ یہ واضح طور پر ایک پرامن اظہار خیال کا معاملہ ہے، نہ کہ متشددانہ ٹکراؤ کا معاملہ۔ اور اس قسم کے پرامن اور خیر خواہانہ اظہار خیال سے کسی کو اختلاف نہیں ہو سکتا۔ "ظلم پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader