خاموش تدبیر
Urdu book, p. 304
By Maulana Wahiduddin Khan
اعانت‘‘ کا مطلب صرف یہ ہے کہ اہل ایمان کسی مبینہ ظالم کا آلہ کار نہ بنیں، بلکہ وہ اس سے الگ رہیں اور اس کے لیے اصلاح کی دعا کرتے رہیں۔ 2- سورہ النساء کی جو آیت آپ نے نقل کی ہے، اس میں واضح طور پر ”قول‘‘ کی بات کہی گئی ہے، نہ کہ کسی قسم کے عملی تصادم کی بات۔ اس آیت سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ ایک شخص اگر مظلوم ہے تو اس کو یہ حق ہے کہ وہ پر امن قول کے دائرے میں رہتے ہوئے ظالم کے خلاف بولے۔ یہ عین وہی بات ہے جس کو میں بار بار لکھتا رہا ہوں۔ 3- تیسرے نمبر پر آپ نے جو حدیث نقل کی ہے، وہ کسی مبینہ ظالم کے خلاف ”کلمہ‘‘ یا قول کی اجازت دیتی ہے، نہ کہ عملی تصادم کی اجازت۔ ایک شخص اگر مبینہ طور پر ظالم ہو تو اہل ایمان کو بلاشبہ یہ حق ہے کہ وہ اس کے خلاف امن اور انصاف اور خیر خواہی کی شرائط کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار کریں۔ اس حدیث میں بھی واضح طور پر ”کلمہ‘‘ کی اجازت ہے، نہ کہ ٹکراؤ اور جنگ کی اجازت۔ 4- چوتھے نمبر پر آپ نے جو حدیث نقل کی ہے، وہ بھی واضح طور پر ”مشی‘‘ کے بارے میں ہے، نہ کہ جنگ کے بارے میں۔ یعنی اگر کوئی شخص مبینہ طور پر ظالم ہو تو ظلم پر اس کا ساتھ دینا اہل ایمان کے لیے جائز نہیں۔ ایسے مواقع پر اہل ایمان کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ ظالم کے حق میں دعا کریں، وہ اس کو خیر خواہانہ انداز میں نصیحت کریں، وہ مکمل طور پر امن کے دائرے میں رہتے ہوئے اس کی اصلاح کی کوشش کریں۔ آپ نے لکھا ہے کہ ”اگر ظلم پر خاموشی اختیار کی جائے تو وہ ظلم کی حمایت اور اعانت تصور کی جائے گی‘‘۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ خاموشی کا معاملہ نہیں ہے بلکہ حدیث کے مطابق، وہ استطاعت کا معاملہ ہے یعنی اس طرح کے معاملے میں دخل دینے کا اصول یہ ہے کہ: نتیجہ (result) کو سامنے رکھا جائے۔ اگر دخل دینے سے نتیجہ برعکس نکلتا ہو تو صرف دعا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader