خاموش تدبیر
Urdu book, p. 305
By Maulana Wahiduddin Khan
کی جائے گی۔ دعا کے سوا کوئی اور عملی اقدام نہیں کیا جائے گا۔ اس معاملے کو آپ مشہور حدیث رسول کے مطالعے سے بخوبی طور پر سمجھ سکتے ہیں: مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَان ( صحیح مسلم، حدیث نمبر 49)۔ یعنی، تم میں سے جو شخص کسی منکر کو دیکھے، تو وہ اس کو اپنے ہاتھ سے روکے، اور اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو پھر اپنی زبان سے، اور اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو پھر اپنے دل سے، اور یہ سب سے زیادہ کمزور ایمان ہے۔ سوال راقم آج کل ”تذکیر القرآن“ کے ساتھ الرسالہ کا مطالعہ کر رہا ہے۔ الرسالہ کو پڑھ کر مختصر اً یہ محسوس ہوا کہ آپ ایک انسان کو اس کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے معاملات میں ہر صورت میں خود ذمہ دار ٹھہراتے ہیں اور ہر مسئلے کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کا درس دیتے ہیں۔ لیکن یہ تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب کہ فریقین باہمی رضامندی سے مسئلہ فساد کو مٹانے کی نیت رکھتے ہوں اور زور اور کم زور کی مجبوری کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائے (سید غلام احمد بخاری، بیروہ، کشمیر)۔ جواب میں نے جو کچھ لکھا ہے، وہ میں نے اپنے ذاتی خیال کے طور پر نہیں لکھا ہے، بلکہ خدا کے مقرر کردہ قانونِ فطرت کے حوالے سے لکھا ہے۔ ہم جس دنیا میں ہیں، اُس دنیا کو خدا نے بنایا ہے۔ یہ خود خدا ہے جس نے اس دنیا کے لیے قوانین مقرر کیے ہیں۔ ہمارے لیے کامیابی کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم خدا کے قانون کو دریافت کریں اور اُس کے مطابق، اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ قرآن کا مطالعہ کیجیے تو قرآن سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ کوئی اجتماعی معاملہ پیش

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader