Urdu book · تعمیرِ شخصیت

خاموش تدبیر

Urdu book, p. 306

By Maulana Wahiduddin Khan

آئے۔ تو آدمی کو سب سے پہلے خود اپنی غلطی کو دریافت کرنا چاہیے۔ اپنی غلطی کو دریافت کر کے اُس کی اصلاح کرنا، یہی مسئلے کا واحد حل ہے۔ قرآن میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ تمہارے اوپر جو مصیبت بھی آتی ہے، وہ صرف تمہارے کیے کا نتیجہ ہوتی ہے (42:30)۔ دوسری جگہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اگر تم صبر کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو تو دوسروں کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچائے گی (3:120)۔ اِس قسم کی آیتوں اور حدیثوں پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ شکایت اور احتجاج کا ذہن سراسر ایک غیر فطری ذہن ہے۔ شکایت اور احتجاج پر مبنی تحریکوں سے کسی کو کچھ ملنے والا نہیں۔ کیوں کہ ایسی تحریکیں، خدا کے نقشے کے خلاف ہیں۔ ہمارے لیے واحد راستہ یہ ہے کہ ہم اپنی روش پر نظرثانی کریں۔ داخلی محنت اور پُر امن تدبیر کے ذریعے اپنے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ اِس کے سوا جو طریقہ ہے، وہ صرف ایک خود ساختہ طریقہ ہے اور ایسے خود ساختہ طریقوں سے خدا کی مدد ملنے والی نہیں۔ سوال عام تاثر یہ ہے کہ پوری دنیا کی غیر مسلم قو میں مسلمانوں کے در پے ہیں، اور مسلم دنیا سازشوں کے نرغے میں ہے۔ کیا یہ صحیح ہے، اور اگر یہ صحیح ہے تو اس کا حل کیا ہے؟ (ایک قاری الرسالہ، سری نگر) جواب اِس قسم کی سوچ بلا شبہ غلط ہے۔ کیوں کہ وہ فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ موجودہ دنیا کو امتحان کی بنیاد پر بنایا گیا ہے۔ اِس لیے انسان کو خود خالق نے مکمل آزادی عطا کی ہے ۔ اور جب آدمی اپنی آزادی کو استعمال کرے گا تو وہ صرف اپنے انٹرسٹ کو دیکھے گا، وہ دوسرے کے انٹرسٹ کو دیکھ کر اپنا منصوبہ نہیں بنائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک کی آزادی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page