Urdu book · تعمیرِ شخصیت

خاموش تدبیر

Urdu book, p. 307

By Maulana Wahiduddin Khan

دوسرے کے لیے مسئلہ بن جاتی ہے۔ ایسی حالت میں دوسرے انسان کے لیے صرف یہ چوائس ہے کہ وہ اس قسم کے مسئلے کو چیلنج سمجھے۔ اور دوسرے سے لڑائی یا نفرت کیے بغیر اپنے لیے ترقی کا راستہ نکالے۔ یہ بات قرآن میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے: وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا (3:120) یعنی اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کی کوئی سازش تم کو نقصان نہ پہنچائے گی۔ اس آیت میں جورہنمائی دی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ اگر تم کو دوسروں کی طرف سے کوئی مسئلہ پیدا ہو تو اس کو سازش بتا کر احتجاج (protest) نہ کرو۔ بلکہ صورتِ حال کا بے لاگ جائزہ لے کر مثبت بنیادوں پر اپنی زندگی کی تعمیر کرو۔ زندگی کے مواقع جس طرح ایک شخص کے لیے کھلے ہوئے ہیں، اسی طرح وہ دوسرے شخص کے لیے بھی کھلے ہوئے ہیں۔ اس لیے کرنے کا اصل کام مواقع کو استعمال کرنا ہے، نہ کہ دوسرے کے خلاف چیخ و پکار کرنا۔ کسی کو دشمن بتا کر اس کے خلاف چیخ و پکار کرنا، باعتبار نتیجہ صرف اپنی تباہی میں اضافہ کرنا ہے۔ کیوں کہ یہ ملے ہوئے وقت کو ضائع کرنے کے ہم معنی ہے۔ اس دنیا میں کامیابی کا راز صرف ایک ہے، اور وہ ہے حالات کے مطابق درست منصوبہ بندی۔ سوال اپنے علم میں اضافہ کی غرض سے میں نے اپنے 21 جون 2004ء کے خط میں آپ کی مدد چاہی تھی۔ مگر آپ کا جواب مورخہ 3 جولائی اپنی نوعیت میں میرے استفسار کا جواب نہیں ہے بلکہ محض میرے سوال کی تردید ہے۔ عالمانہ جواب باقی ہے۔ ”ذوالکفل‘‘ قرآن ہی کے تو الفاظ ہیں۔ النبی الخاتم کا حوالہ اس لیے نہیں تھا کہ آپ میرے ہم خیال ہو جائیں بلکہ اس لیے تھا کہ براہِ راست اسے دیکھ لیں اور اس کی روشنی میں دوسرے علماء و مفسرین جن تک میری رسائی نہیں ہے، اور آپ کی یقیناً ہوسکتی ہے، ان کی تحقیق یا آراء کی روشنی میں مفصل رہنمائی فرمائیں (محمد رضوان احمد، شیخ پورہ، بہار)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page