Urdu book · تعمیرِ شخصیت

خاموش تدبیر

Urdu book, p. 308

By Maulana Wahiduddin Khan

جواب ذوالکفل کا ذکر قرآن میں دو سورتوں میں آیا ہے: سورہ ص (آیت 48) اور سورہ الانبیاء (آیت 85)۔ مگر قرآن یا حدیث میں ذوالکفل کے بارے میں مزید تفصیل مذکور نہیں۔ بعض مفسرین مثلاً مفسر آلوسی (صاحب روح المعانی) نے لکھا ہے کہ ذوالکفل سے مراد وہ بزرگ ہیں جن کا ذکر بائبل میں ’حزقی ایل‘، پیغمبر کی حیثیت سے آیا ہے۔ مگر یہ محض قیاس ہے۔ اس کی کوئی بنیاد نہ تاریخ میں موجود ہے اور نہ قرآن وحدیث میں۔ خود بائبل میں ’حزقی ایل‘ کا ذکر تو ہے مگر بائبل میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ ’حزقی ایل‘ کا لقب ذوالکفل تھا۔ ذوالکفل کے لفظی معنی صاحب نصیب کے ہوتے ہیں۔ میرے نزدیک اس قسم کے مسائل میں زیادہ غور وخوض کرنا درست نہیں۔ غور وخوض مفید طور پر صرف اُن مسائل میں کیا جا سکتا ہے جن میں رائے قائم کرنے کے لیے کوئی متفق علیہ بنیاد موجود ہو۔ یہ بنیاد صرف دو ہو سکتی ہے، تاریخ یا وحی۔ مگر ذوالکفل کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے دونوں میں سے کوئی بھی بنیاد دستیاب نہیں۔ ایسی حالت میں اس سوال کو اُس خانہ میں ڈالنا چاہیے جس کی بابت حدیث میں آیا ہے کہ خدا نے کچھ باتوں کو علم کے باوجود ظاہر نہیں کیا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ وہ ان معاملات میں بحث نہ کرے: وَسَکَتَ عَنْ أَشْیَاءَ مِنْ غَیْرِ نِسْیَانٍ فَلَا تَبْحَثُوا عَنْهَا (سنن الدارقطنی، حدیث نمبر 4396)۔ ذوالکفل کے بارے میں زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اُن کا ذکر قرآن میں کس پہلو سے آیا ہے۔ وہ پہلو یہ ہے کہ ذوالکفل اور دوسرے انبیاء کا ذکر کر کے قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ یہ سب کے سب صبر کرنے والے لوگ تھے (21:85)۔ ایسی حالت میں ہمیں اس سے یہ نصیحت لینا چاہیے کہ ذوالکفل اور دوسرے پیغمبروں کا کردار صابرانہ کردار تھا۔ ہمیں بھی اسی پیغمبرانہ اُسوہ کو لیتے ہوئے ہر معاملہ میں صبر کی روش اختیار کرنا چاہیے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page