Urdu book · تعمیرِ شخصیت

خاموش تدبیر

Urdu book, p. 309

By Maulana Wahiduddin Khan

سوال عام طور پر کہا جاتا ہے کہ میں تشدد کا حامی نہیں، لیکن دشمنوں کی سازش سے واقف ہونا تو بہت ضروری ہے۔ براہِ کرم اس معاملے میں وضاحت فرمائیں۔ (ڈاکٹر محمد اسلم خان، سہارن پور) جواب قرآن میں بتایا گیا ہے: وَاِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا (3:120)۔ یعنی، اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو ان کی سازش تم کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ دوسرے الفاظ میں، سازش سے واقف ہونا سازش کا توڑ نہیں ہے، بلکہ صبر اور تقویٰ کی روش اس کا توڑ ہے۔ قرآن کی اس آیت پر غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس معاملے میں کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں کی بے صبری اور ان کے غیر متقیانہ مزاج سے واقفیت حاصل کی جائے، اور پھر اس کی اصلاح کی کوشش کی جائے۔ کیوں کہ مسلمانوں کے اندر صبر اور تقویٰ کی روش پیدا کر کے ہی سازش کو بے اثر بنایا جا سکتا ہے۔ قانونِ فطرت کے تحت ”سازش“ کا خاتمہ ممکن نہیں، البتہ یہ ممکن ہے کہ مسلمان اپنے ثبت ردِعمل کے ذریعے اپنے آپ کو اس کے نقصان سے بچا سکیں۔ جس چیز کو ”سازش“ کہا جاتا ہے، وہ دراصل ایک امرِ فطری ہے۔ اس کا تعلق خدا کی دی ہوئی آزادی سے ہے۔ یہ آزادی مصلحتِ امتحان کی بنا پر دی گئی ہے، اس لیے وہ قیامت تک باقی رہے گی، اس کو ہرگز ساقط نہیں کیا جاسکتا۔ کرنے کا کام یہ نہیں ہے کہ لاحاصل طور پر خود سازش کا خاتمہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلمانوں کو اتنا باشعور بنایا جائے کہ وہ اشتعال کے باوجود مشتعل نہ ہوں۔ مشتعل نہ ہو کر سازش کو بے اثر بنایا جا سکتا ہے۔ اس معاملے میں اصل حقیقت تدبیر کار کی ہے، نہ کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page