Urdu book · تعمیرِ شخصیت

خاموش تدبیر

Urdu book, p. 310

By Maulana Wahiduddin Khan

سازش سے باخبر ہونے کی۔ اسی لیے قرآن میں یہ نہیں فرمایا کہ اے مسلمانوں، تم سازش سے باخبر رہو، بلکہ یہ فرمایا کہ تم ہر حال میں صبر کی روش اختیار کرو۔ صبر کی روش اختیار کر کے تم سازش کا شکار ہونے سے بچ جاؤ گے۔ سوال میں ایم اے انگریزی (M.A. English from IGNOU) کی طالبہ ہوں اور جنوری 2002ء سے میں الرسالہ پڑھتی رہی ہوں۔ پہلی بار جب الرسالہ میرے ہاتھوں میں آیا تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی اور پڑھنے کے بعد حقیقت میں دل بہت خوش ہوا اور سب سے بڑی بات یہ کہ میں الرسالہ سے فوراً متاثر ہوگئی۔ اس سے میری معلومات میں اضافہ ہوا۔ ایسا لگا جیسے الرسالہ صرف دل کو ہی نہیں بلکہ روح کو بھی تسکین دیتا ہے۔ تب سے میں نہایت ہی پابندی کے ساتھ الرسالہ کا مطالعہ ہر ماہ کر رہی ہوں۔ بے شک اس کے مطالعے سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ بہت کچھ حاصل کیا ہے اور میں اس کا پورا کریڈٹ آپ کے نام کروں گی۔ بلا شبہ آپ کی عظیم شخصیت کی بدولت ہی یہ سب کچھ ممکن ہو سکا۔ بے شک مجھے اس کے ذریعے اسلام کی حقیقت سے روشناس ہونے کا موقع ملا۔ مگر کچھ باتوں سے میں متفق نہیں ہوں۔ وہ یہ کہ ہر معاملے میں مسلمانوں کو قصور وار ٹھہرانا۔ تالی دونوں ہاتھ سے بجتی ہے۔ پھر یہ کہنا کہاں تک درست ہے کہ یہ مسلمانوں کی غلطی کا ثمرہ و نتیجہ ہے (رخشان ہاشمی، مونگیر)۔ جواب ”مسلمانوں کو قصور وار ٹھہرانا“ ایک غیر متعلق بات ہے۔ اس طرح کے معاملات میں اصل سوال یہ جاننے کا ہے کہ فطرت کا قانون کیا ہے۔ ہماری رائے فطرت کے قانون کے مطابق ہونی چاہیے، نہ کہ اپنے جذبات یا خواہشات کے مطابق۔ قرآن میں فطرت کا یہ قانون ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ (42:30) یعنی، اور جو مصیبت تم کو پہنچتی ہے تو وہ تمہارے ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں ہی سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page