خاموش تدبیر
Urdu book, p. 311
By Maulana Wahiduddin Khan
پہنچتی ہے۔ قرآن کی یہ آیت حتمی الفاظ میں بتا رہی ہے کہ لوگوں کے اوپر جو مصیبت آتی ہے وہ ان کے اپنے ہی کیے کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ایک اور آیت میں فرمایا: ﴿وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا﴾ (3:120)۔ یعنی، اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی تدبیر تم کو نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ اس دوسری آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں اصل مسئلہ ”اغیار کی سازش“ کی موجودگی نہیں ہے، بلکہ خود مسلمانوں کے اندر صبر اور تقویٰ کی غیر موجودگی ہے۔ یعنی اگر مسلمانوں میں صبر اور تقویٰ ہو گا تو وہ اغیار کی سازش سے محفوظ رہیں گے اور اگر صبر اور تقویٰ نہیں ہوگا تو وہ اغیار کی سازشوں کا شکار ہو جائیں گے۔ ان قرآنی آیات کے مطابق، آپ نے جن باتوں کے بارے میں عدم اتفاق کا اظہار کیا ہے، اس کا تعلق الرسالہ سے نہیں ہے، بلکہ خود قرآن سے ہے۔ آپ کو اگر کہنا ہے تو یہ کہیے کہ مجھ کو قرآن کی بات سے اتفاق نہیں۔ کیوں کہ یہ بات الرسالہ کی بات نہیں ہے، بلکہ وہ خود قرآن کی بات ہے۔ مذکورہ قسم کی آیتوں کا مطالعہ کرنے سے جو بات معلوم ہوتی ہے وہ یہ کہ جب کوئی افتاد پڑے تو مسلمانوں کے اندر احتساب خویش (introspection) کا جذبہ جاگنا چاہیے ۔ دوسروں کے خلاف احتجاج اور شکایت کرنا، سراسر قرآن کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ سوال میرا ایک مسئلہ ہے جس نے مجھ کو بہت مغموم کر رکھا ہے۔ مسئلہ یوں ہے کہ بندہ بالوں کے گرنے کی پرابلم سے دوچار ہے۔ بال گرتے تو ہیں مگر دواؤں کے باوجود، وہ دوبارہ نہیں اُگتے ۔ کیا رب العالمین اس پر قادر نہیں۔ کیوں ایسا ہے کہ خدا نے کسی کے سر پر خوبصورت بال دیے اور کسی کو گنجا بنا دیا۔ برائے مہربانی آپ اپنی رائے سے نوازیں (عمر رفیق، سری نگر، کشمیر)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader