Urdu book · تعمیرِ شخصیت

خاموش تدبیر

Urdu book, p. 312

By Maulana Wahiduddin Khan

جواب آپ کے جذبات قابل قدر ہیں۔ بال کے بارے میں جو کچھ آپ نے لکھا ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ موجودہ دنیا امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں ہر چیز آزمائش کے لیے ہوتی ہے، ملنا بھی اور نہ ملنا بھی۔ اسی طرح آدمی کے سر پر اچھے بال کا اُگنا بھی آزمائش ہے اور بال کا جھڑنا یا سفید ہونا بھی آزمائش ۔ اس آزمائش میں پورا اترنا یہ ہے کہ آدمی دونوں حالتوں کو یکساں طور پر خدا کی طرف سے سمجھے، وہ ملنے پر نازاں نہ ہو اور نہ ملنا اس کو مایوسی میں مبتلا نہ کرے۔ آپ بال کے مسئلہ کے بارے میں علاج کریں ، مگر کسی بھی حال میں مایوسی کا شکار نہ ہوں۔ بلکہ اللہ سے یہ دعا کریں کہ اے اللہ، میں تیرے فیصلہ پر راضی ہوں، تو میرے لیے حسن تلافی کا فیصلہ فرما۔ مجھے آخرت میں جنت دے دے، جہاں نہ کوئی بیماری ہوگی اور نہ کوئی محرومی۔ انسان کو خود سے دنیا میں کوئی مصیبت نہیں مانگنا چاہیے۔ لیکن اگر اس پر کوئی مصیبت آ جائے تو اُس وقت اُس کو کامل صبر کی روش اختیار کرنی چاہیے۔ یہی مومن کا طریقہ ہے اور یہی جنت کی قیمت ہے۔ سوال آج ساری دنیا کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کے جذبات ابھارے جا رہے ہیں۔ کہیں کارٹون بنانے کے واقعات پیش آ رہے ہیں تو کہیں قرآن کریم کی بے حرمتی کی جا رہی ہے۔ ایسی صورت میں امتِ مسلمہ کا کیا رول ہونا چاہیے؟ (جیسا کہ ظلم و ستم کو روٹنے کا حکم ہے اور نہ روک سکیں تو دعا کرنے کا حکم)۔ برائے مہربانی قرآن اور حدیث کی روشنی میں جواب دیں، جیسا کہ آپ کرتے ہیں۔ یہ بتائیں کہ مسلمان روکنے کی پوزیشن میں ہیں یا صرف دعا کرنے کی پوزیشن میں۔ آپ کی بات اور آپ کا انداز سب سے جدا ہے اور مجھے مطمئن کرنے والا ہوتا ہے۔ (حماد احمد، نئی دہلی) جواب یہ کہنا درست نہیں کہ مسلمانوں کے جذبات ابھارے جا رہے ہیں، یا ان کو مشتعل کیا جا رہا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page