Urdu book · تعمیرِ شخصیت

اعراض اور روادارِی

Urdu book, p. 322

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنا آڈنٹیٹی کارڈ نکالا اور اس آدمی کو دکھایا۔ آڈنٹیٹی کارڈ کو دیکھتے ہی وہ ایسا ہو گیا جیسے پھولے ہوئے غبارے کی ہوا اچانک نکل گئی ہو ۔ اور پھر وہ سر جھکا کر خاموشی کے ساتھ چلا گیا ۔ اس واقعہ میں بہت بڑا سبق ہے۔ اگر کوئی شخص آپ کے خلاف بُرا برتاؤ کرے تو فوراً اس کو اپنا دشمن نہ سمجھ لیجیے۔ عین ممکن ہے کہ اس کے برے برتاؤ کا سبب اس کی غلط نہی ہو۔ اگر آپ صبر و اعراض کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے اس سے نرمی کا معاملہ کریں تو عین ممکن ہے کہ آپ کی صحیح تصویر کو جاننے کے بعد اس کا رویہ بالکل بدل جائے۔ گولی مارنے کی بات کرنے والا آدمی آپ کو پھول کی پیش کش کرنے لگے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ بے صبری کا انداز آدمی کے نفس امارہ کو جگاتا ہے۔ اس کے برعکس، صبر کا انداز اس کے نفس لوامہ کو جگا دیتا ہے۔ نفس امارہ کا جاگنا آدمی کو آپ کا دشمن بنا دیتا ہے، اور نفس لوامہ کا جاگنا آدمی کو آپ کا دوست بنا دیتا ہے۔ انسانی زندگی میں غلط نہی پیدا ہونا ایک عام بات ہے۔ کسی بھی شخص کو کسی بھی شخص کے خلاف غلط نہی پیدا ہو سکتی ہے۔ اس لیے غلط نہی پیدا ہونا بذاتِ خود کوئی جرم نہیں۔ جرم یہ ہے کہ غلط نہی پیدا ہونے کے بعد وہ درست رویہ اختیار نہ کرے۔ اگر کسی شخص کو کسی کے خلاف غلط نہی پیدا ہو جائے تو صرف غلط نہی کی بنیاد پر اسے مان نہیں لینا چاہیے ۔ اس پر لازم ہے کہ وہ کھلے ذہن کے ساتھ معاملہ کی تحقیق کرے۔ تحقیق کے بعد اگر وہ بات غلط ثابت ہو تو اس پر فرض ہے کہ وہ اس کو مکمل طور پر اپنے دل سے نکال دے۔ غلط نہی کی تحقیق سے پہلے اس کا چرچا کرنا سخت گناہ ہے۔ ایک آدمی کسی کے بارے میں تحقیق کے بغیر بھلی بات تو کہہ سکتا ہے مگر تحقیق کے بغیر بری بات کہنا سرتا سر حرام ہے۔ ایسی روش پر اللہ کے یہاں سخت پکڑ کا اندیشہ ہے۔ خدا کا پسندیدہ معاشرہ وہ ہے جس میں لوگوں کے باہمی تعلقات حسن ظن کی بنیاد پر قائم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page