Urdu book · تعمیرِ شخصیت

اعراض اور روادارِی

Urdu book, p. 323

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوں۔ کسی کے بارے میں کوئی بری بات معلوم ہو تو تحقیق کے بغیر ہی اس کو رد کر دیا جائے۔ اس قسم کی باتیں براہ راست طور پر آخرت سے تعلق رکھتی ہیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ جو آدمی لوگوں کے عیوب کی پردہ پوشی کرے ، خدا آخرت میں اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرے گا۔ دوسروں کے ساتھ بہتر سلوک کرنا ایک قسم کی عملی دعا ہے۔ ایسا آدمی گویا یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ خدایا، میں نے تیرے بندوں کے ساتھ بہتر معاملہ کیا، تو بھی میرے ساتھ بہتر معاملہ فرما، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ رواداری رواداری (tolerance) ایک اعلیٰ انسانی اور اسلامی صفت ہے۔ رواداری کا مطلب دوسروں کی رعایت کرنا ہے۔ اس کے مقابلہ میں عدم رواداری یہ ہے کہ آدمی صرف اپنے آپ کو جانے ، وہ دوسروں کے تقاضے سے بے خبر ہو جائے۔ رواداری ایک اعلیٰ انسانی اسپرٹ ہے۔ اس کو شریعت میں مختلف الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً رفوق ، تالیف قلب ، شفقت علی الخلق ، وغیرہ۔ آدمی کے اندر جب خدا پرستی اور سچی دین داری آتی ہے تو وہ خود غرضی کے تحت پیش آنے والی تمام برائیوں سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔ وہ اپنی ذات میں جینے کے بجائے حقائق میں جینے لگتا ہے۔ ایسا انسان اپنے ربانی مزاج کے مطابق دوسروں کو محبت کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے۔ وہ دوسروں سے کسی چیز کا امیدوار نہیں ہوتا، اس لیے دوسرے اگر اس سے اختلاف رکھیں یا اس کے ساتھ اچھا سلوک نہ کریں ، تب بھی وہ دوسروں کا خیر خواہ بنا رہتا ہے۔ تب بھی وہ دوسروں کی رعایت کرتا ہے۔ تب بھی وہ دوسروں کے ساتھ اپنے روادارانہ سلوک کو باقی رکھتا ہے۔ رواداری یہ ہے کہ آدمی ہر حال میں دوسرے کی عزت کرے ، خواہ وہ اس کے موافق ہو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page