Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 324

By Maulana Wahiduddin Khan

یا اس کے خلاف۔ وہ ہر حال میں دوسرے کو اعلیٰ انسانی درجہ دے، خواہ وہ اس کا اپنا ہو یا غیر۔ وہ دوسرے کے کیس کو ہر حال میں ہمدردی کا کیس سمجھے۔ خواہ دوسرے کی طرف سے بظاہر غیر ہمدردانہ سلوک کا اظہار کیوں نہ ہوا ہو۔ رواداری کا مطلب در اصل دوسروں کی رعایت کرنا ہے۔ اجتماعی زندگی میں لازمی طور پر ایک اور دوسرے کے درمیان اختلافات پیش آتے ہیں۔ مذہب، کلچر، رواج اور ذاتی ذوق کا فرق ہر سماج میں باقی رہتا ہے۔ ایسی حالت میں اعلیٰ انسانی طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے اصول پر قائم رہتے ہوئے دوسرے کے ساتھ رعایت اور توسع کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ اپنی ذات کے معاملہ میں اصول پسند ہو، مگر دوسرے کے معاملہ میں روادار۔ وہ اپنے آپ کو اعلیٰ معیار کی روشنی میں جانچے_ مگر جب دوسروں کا معاملہ ہو تو وہ رواداری اور وسعت ظرفی کا طریقہ اختیار کرے۔ یہ رواداری انسانی شرافت کا لازمی تقاضا ہے۔ اسلام آدمی کے اندر یہی شرافت پیدا کرتا ہے۔ مذہبی رواداری، تالیفِ قلب آج کل تالیف قلب اور مذہبی رواداری کا بہت زیادہ چرچا ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ مذہبی رواداری اور تالیفِ قلب ایک ہیں یا دونوں میں کوئی فرق ہے_ (سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تامل ناڈو) جہاں تک میں سمجھتا ہوں رواداری (tolerance) اور تالیفِ قلب (softening of the heart) اپنی حقیقت کے اعتبار سے دونوں ایک ہیں۔ البتہ رواداری ایک سیکولر اصطلاح (term) ہے، اور تالیفِ قلب ایک مذہبی اصطلاح۔ تاہم دونوں میں ایک فرق ہے۔ رواداری کا لفظ صرف باہمی ٹالرنس کا مفہوم رکھتا ہے۔ جب کہ تالیفِ قلب اللہ کی رضا کے لیے یک طرفہ طور پر خیر خواہی کرنا ہے۔ تالیفِ قلب مذہبی معاملات میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page