تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 339
By Maulana Wahiduddin Khan
اسباب فساد کیا ہیں۔ جب کسی سماج میں نفرت کی بولی بولی جائے، جب ایسا ہو کہ کسی گروہ کو ظالم اور دشمن بتا کر اس کے خلاف بُری خبریں پھیلائی جائیں، جب کسی سماج میں ایسے لوگ اس کے لیڈر بن جائیں جو ذاتی ذمے داریوں (duties) کی بات نہ کرتے ہوں، بلکہ وہ حقوق (rights) کو لے کر اپنی محرومی کی داستان سناتے ہوں، جب اپنے لوگوں کی برائیوں پر اُن کو نہ روکا جائے اور دوسروں کے خلاف شکایت اور احتجاج کی مہم چلائی جائے، تو سمجھ لیجیے کہ ایسے سماج میں اسباب فساد کی آگ بھڑکائی جارہی ہے، جو کسی نہ کسی دن بڑھ کر عملی فساد کی صورت اختیار کرلے گی۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ قوم کے رہ نما خود اپنی قوم کی اصلاح پر ساری توجّہ لگائیں، نہ کہ دوسری قوم کے خلاف لوگوں کے اندر منفی جذبات پیدا کریں۔ جو لوگ ایسا نہ کریں، وہ مفسد ہیں، نہ کہ مُصلح۔ فساد کا علاج اسباب فساد کی روک تھام ہے، نہ کہ فساد کے خلاف شکایت اور احتجاج۔ فخر اور نفرت انسان کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد کے اندر ایک نفسیات مشترک طور پر موجود رہتی ہے۔ فخر اور نفرت۔ فخر کا جذبہ اپنے لیے، اور نفرت کا جذبہ دوسروں کے لیے۔ ہر آدمی انھیں دو احساسات کے درمیان جیتا ہے اور انھیں دو احساسات کے درمیان مر جاتا ہے۔ یہ دونوں جذبات اتنے قوی ہیں کہ فخر کا اگر صرف ایک ذرہ اسے مل جائے تو اس کو لے کر وہ اپنے فخر کا گنبد کھڑا کر دیتا ہے۔ اس طرح اگر اُس کو نفرت کا ایک ذرہ مل جائے تو اٗس کو لے کر وہ دوسروں کو نفرت کا موضوع بنا لیتا ہے۔ یہ دونوں جذبے اتنے زیادہ عام ہیں کہ اُس کو انسان کا عالمی مزاج کہا جاسکتا ہے۔ اس مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ ہر آدمی اپنے بارے میں فخر کی نفسیات میں جیتا ہے، اور دوسرے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader