تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 340
By Maulana Wahiduddin Khan
کے بارے میں نفرت کی نفسیات میں۔ یہ دونوں جذبات دھیرے دھیرے انسان کے لاشعور کا حصہ بن جاتے ہیں، یہاں تک کہ انسان کا یہ حال ہو جاتا ہے کہ اُس کو اس معاملے میں سوچنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہر صورتِ حال میں یہ چیزیں اپنے آپ اس کے اندر پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ ہر صورتِ حال اپنے آپ اُس کو اپنے لیے فکری غذا دینے والی بن جاتی ہے۔ اِس طرح ہر صورتِ حال اپنے آپ اُس کو دوسروں کے بارے میں نفرت کی غذا دیتی رہتی ہے۔ یہ دو طرفہ نفسیاتی عمل آدمی کے اندر اس طرح مسلسل طور پر جاری رہتا ہے کہ اس میں اس کی کنڈیشننگ ہو جاتی ہے۔ یہ برائی آدمی کے اندر سوچے بغیر اپنے آپ پیدا ہوتی ہے۔ لیکن جب اْس کو ختم کرنا ہو تو آدمی کو سوچ کر اسے ختم کرنا ہوتا ہے۔ یہ اس معاملے کا سب سے زیادہ نازک پہلو ہے۔ اس معاملے میں کوئی شخص اپنی اصلاح اُسی وقت کر سکتا ہے، جب کہ وہ شعوری طور پر اس کو دریافت کرلے، وہ شعوری طور پر اپنے اوپر اصلاح کا عمل کرنے لگے۔ مسلمان عالمی محاصرہ میں موجودہ زمانے کے تعلیم یافتہ مسلمانوں کا عام مزاج یہ ہے کہ مسلمان عالمی سطح پر زیر محاصرہ (under seige) ہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ تمام قو میں مسلمانوں کی مخالف ہیں۔ تمام قوموں نے مسلمانوں کے خلاف سازش کر رکھی ہے۔ تمام قومیں متفقہ طور پر یہ چاہتی ہیں کہ مسلمان دوبارہ ابھرنے نہ پائیں، چنانچہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر سطح پر مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ یہ سوچ سرتا سر ایک بے بنیاد سوچ ہے۔ خالص علمی اعتبار سے اِس کی کوئی حقیقت نہیں ۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا کا نظام خود خالق کے نقشے کے مطابق، مسابقت (competition) اور چیلنج پر قائم ہے۔ یہ فطرت کا نظام ہے۔ اس نظام کی بنا پر کوئی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader