Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 341

By Maulana Wahiduddin Khan

آگے بڑھتا ہے اور کوئی پیچھے ہو جاتا ہے، کوئی پانے والا بنتا ہے اور کوئی کھونے والا۔ یہ نظام اِس لیے ہے تا کہ زندگی کی سرگرمیاں جاری رہیں، تا کہ ہر فرد اور ہر گروہ کو عمل کا محرک (incentive) ملتا رہے۔ فطرت کے اِس نظام کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ ایک گروہ اپنی کوشش کے ذریعے آگے بڑھ جاتا ہے اور وہ دوسرے گروہ کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ ایسی حالت میں پچھڑے ہوئے گروہ کو چاہیے کہ وہ اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کرے، وہ کھوئی ہوئی بازی کو دوبارہ جیتنے کے لیے اپنی ساری توانائی خرچ کردے۔ زندگی کو چیلنج سمجھنا آدمی کو نیا جذبہ عمل دیتا ہے۔ اس کے برعکس، سازش اور دشمنی کا نظریہ آدمی کو منفی نفسیات میں مبتلا کر کے اس کو زندگی کی دوڑ میں پیچھے ڈال دیتا ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انھوں نے اپنے رہنماؤں کی غلط رہنمائی کے نتیجے میں چیلنج کو محاصرہ سمجھ لیا۔ انھوں نے ایک مثبت واقعے کو خالص منفی رخ دے دیا۔ مسلمانوں کی یہی غلط سوچ ہے جس کی اصلاح میں ان کی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں موجودہ زمانے کے مسلمان زوال کا شکار ہوئے ہیں۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں وہ اپنی اصلاح کر کے دوبارہ عروج تک پہنچ سکتے ہیں۔ شکایت کو نفرت تک پہنچانا ایک روایت حدیث کی کتابوں صحیح مسلم، ابوداؤد، الترمذی، ابن ماجہ، اور مسند احمد میں آئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، يَلْتَقِيَانِ: فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا،

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page