Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تک پہنچانا

Urdu book, p. 342

By Maulana Wahiduddin Khan

وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6077)۔ یعنی، ابو ایوب انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی انسان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے۔ دونوں ملیں اور پھر وہ ایک دوسرے سے منہ پھیر لیں۔ دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔ انسانی تعلقات میں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کو دوسرے شخص سے ناخوش گوار تجربہ پیش آتا ہے۔ دونوں کے درمیان ناگواری بڑھتی ہے، یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے سے ترک تعلق کر لیتے ہیں۔ وہ ایک دوسرے سے ملنا اور سلام کرنا بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ طریقہ اسلامی شریعت میں جائز نہیں ۔ ایسا کرنے والے لوگ سخت گنہ گار ہیں، وہ خدا کے یہاں اس کے لیے پکڑے جائیں گے۔ اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ اگر دونوں کے درمیان تلخی کا سبب غلط نہی ہے تو غلط فہمی کو دور کر کے تعلق کو درست کر لیا جائے۔ اور اگر ایک آدمی دوسرے کے بارے میں سمجھے کہ وہ بد دیانت ہے تو ایسی حالت میں اُس کے لیے صرف یہ جائز ہے کہ وہ اُس سے مزید کوئی عملی معاملہ نہ کرے۔ لیکن جہاں تک ظاہری تعلق یا سلام و کلام کی بات ہے، وہ بدستور جاری رہنا چاہیے۔ اس طرح کے معاملات میں آدمی کو چاہیے کہ وہ سماجی تعلق کو بدستور برقرار رکھے۔ اس کے آگے کا جو معاملہ ہے، وہ اُس کو خدا کے حوالے کر دے۔ اس طرح کے معاملے میں کسی سے سلام و کلام بند کرنا شکایت کو نفرت تک پہنچانا ہے، اور شکایت کو نفرت تک پہنچانا کسی کے لیے جائز نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page