نصفِ ثانی کی سیاست
Urdu book, p. 343
By Maulana Wahiduddin Khan
نصف ثانی کی سیاست کچھ مسلم نوجوان مجھ سے ملنے کے لیے آئے۔ وہ نہایت جوش میں تھے اور ”غیر قوم“ کے ظلم کی شکایت بیان کر رہے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہم کو اس ظلم کے خلاف کچھ کرنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ اس معاملے میں آپ کو سب سے پہلے یہ کرنا ہے کہ آپ اُس کو ظلم سمجھنا چھوڑ دیں۔ آپ دوسروں کے خلاف احتجاج کرنے کے بجائے خود اپنے آپ پر نظر ثانی کریں۔ میں نے کہا کہ آپ سب نوجوان لوگ ہیں۔ اگر میں آپ کو مارنے لگوں تو آپ کیا کریں گے ۔ آپ میرے اوپر جوابی حملہ کریں گے اور مار کر چلے جائیں گے۔ اب اگر میں لوگوں سے یہ کہوں کہ کچھ مسلم نوجوان میرے پاس آئے تھے، وہ مجھ کو مار کر بھاگ گئے، تو یہ جھوٹ ہوگا۔ کیوں کہ اصل حقیقت یہ ہوگی کہ میں نے آپ کو مارا، اس کے بعد آپ نے جوابی طور پر مجھ کو مارا۔ ایسی حالت میں اصلی قصور وار میں ہوں۔ اگر میں اپنی بات نہ کہوں اور آپ نے جو کچھ کیا، میں صرف اُس کو دہراؤں تو یہ اصل واقعے کے نصف حصے کو دہرانا ہوگا۔ یہ کہانی کے نصف اول (first half) کو چھوڑ کر اس کے نصف ثانی (second half) کا چرچا کرنا ہوگا، اور اس طرح نصف ثانی کا چرچا کرنا، عقل کے بھی خلاف ہے، اور اسلام کے بھی خلاف۔ موجودہ زمانے کے تمام لکھنے اور بولنے والے لوگ اسی کے مطابق لکھتے اور بولتے ہیں۔ وہ نصف ثانی کی سیاست چلا رہے ہیں۔ اس قسم کی سیاست اور صحافت، یا اس قسم کا جلسہ اور جلوس بلا شبہ لغو بھی ہے اور غیر مفید بھی۔ عقل اور شریعت کے اعتبار سے وہ ایک مجرمانہ کام کی حیثیت رکھتا ہے، اور نتیجے کے اعتبار سے وہ سرتا سر بے فائدہ کام ہے۔ اس قسم کی نصف ثانی کی سیاست کا کوئی مثبت نتیجہ اس دنیا میں نکلنے والا نہیں۔ مزید یہ کہ آخرت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader