Urdu book · تعمیرِ شخصیت

اشتعال نہیں

Urdu book, p. 365

By Maulana Wahiduddin Khan

پہنے ہوئے ہیں۔ سر پر گاندھی ٹوپی ہے۔ داڑھی بھی ایک مشت کے ناپ سے کم ہے۔ بزرگ نے یہ دیکھ کر فرمایا: صورت سے تو ایسا معلوم نہیں ہوتا بزرگ کی زبان سے یہ توہین آمیز تبصرہ سن کر موصوف کو غصہ آ گیا۔ تاہم انھوں نے برداشت کر لیا۔ وہ ایک لمحہ چپ رہے اور اس کے بعد بولے: آپ کا ارشاد بجا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کبھی گنہگاروں سے بھی اپنا کام لے لیتے ہیں۔ یہ ٹھنڈا جواب مذکورہ بزرگ کے لیے اتنا سخت ثابت ہوا کہ اس کے بعد وہ کچھ بول نہ سکے اور خاموشی کے ساتھ واپس چلے گئے۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اشتعال کے وقت آدمی کو کیسا جواب دینا چاہیے۔ جب بھی کوئی آدمی آپ پر تنقید کرتا ہے، آپ کے خلاف کوئی سخت بات کہہ دیتا ہے تو آپ کے بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ آپ چاہنے لگتے ہیں کہ اس کو بھسم کر دیں، جس طرح اس نے آپ کو بھسم کیا ہے۔ مگر یہ طریقہ شیطانی طریقہ ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ اس کڑواہٹ کو پی جائیں۔ جو جھٹکا آپ پر لگا ہے، اس کو دوسرے کے اوپر ڈالنے کے بجائے خود اپنے آپ پر سہہ لیں۔ جب آپ ایسا کریں گے تو آپ کو ایک نئی قوت حاصل ہوگی۔ آپ اس حکمت کو جانیں گے کہ کڑوے الفاظ کا جواب میٹھے الفاظ سے دینا زیادہ سخت جواب ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اشتعال کے وقت جو شخص صبر کرے اور سوچ سمجھ کر بولے، وہ زیادہ طاقتور انداز میں اپنی بات کہنے کے لائق ہو جاتا ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ مشتعل الفاظ کا جواب ٹھنڈے الفاظ سے دے اور ٹھنڈک آگ کو زیادہ بجھانے والی ہے۔ وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ اپنے مخالف کو معاف کر دے اور معاف کر دینا یقیناً سب سے بڑا انتقام ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page