Urdu book · تعمیرِ شخصیت

تعمیرِ شخصیت

Urdu book, p. 367

By Maulana Wahiduddin Khan

درمیان جب کوئی ایسی تحریک اٹھتی ہے جو کسی مسلم دشمن طاقت کی نشان دہی کرکے اس کو مٹانے کا نعرہ دے رہی ہو تو مسلمان بہت جلد اس کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔ اور اگر یہ تحریک اسلام کی اصطلاحوں میں بول رہی ہو تو مسلمان اور بھی زیادہ جوش جہاد کے ساتھ اس کی طرف بڑھتے ہیں، کیوں کہ ایسی صورت میں ان کو یہ اطمینان رہتا ہے کہ ان کی نفرت کی سیاست عین اسلام کی سیاست ہے، نہ کہ کوئی غیر اسلامی سیاست۔ مگر یہ سراسر بھول ہے۔ اسلام کی سیاست صرف وہ ہے جو محبت اور خیر خواہی کی بنیاد پر اٹھے۔ جس کی دشمنی ’’کفر‘‘ سے ہو، نہ کہ ’’کافر‘‘ سے۔ جو ’’شرک‘‘ کے خلاف برپا ہوئی ہو، نہ کہ ’’مشرک‘‘ کے خلاف۔ اسلامی رواداری انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984ء) کے مقالہ نگار نے سائنس کی تاریخ (History of Science) کے موضوع پر تفصیلات پیش کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ جس وقت اسلامی تہذیب عروج پر تھی، اس وقت مغربی یورپ میں تہذیب بالکل پست حالت میں تھی۔ پیغمبر اسلام کے پیروؤں کی فتوحات ساتویں صدی عیسوی میں شروع ہوئیں۔ دسویں صدی عیسوی تک یہ حال ہوا کہ ایران سے لے کر اسپین تک تمام قوموں کی علمی زبان عربی بن چکی تھی۔ عرب فاتحین عام طور پر ان ملکوں میں امن اور خوش حالی لے آئے جہاں وہ آباد ہوئے۔ مثال کے طور پر اسپین میں قرطبہ کے کتب خانہ میں اس وقت پانچ لاکھ سے بھی زیادہ کتابیں تھیں جب کہ پائیزینیز کے شمال میں مشکل سے پانچ ہزار کتابیں پائی جاتی تھیں۔ مزید یہ کہ مسلمان دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے لیے بھی روادار تھے۔ چنانچہ مسلم عہد حکومت میں یہودی اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز تھے، جب کہ اس زمانے میں یورپ کا یہ حال تھا کہ وہاں انھیں زندہ رہنے کا حق بھی مشکل سے دیا جاتا تھا: The Muslims were tolerant of the other monotheistic faiths. So that Jews rose to high position in Islamic

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page