Urdu book · تعمیرِ شخصیت

دو ملک، ایک واقعہ

Urdu book, p. 369

By Maulana Wahiduddin Khan

دن تک جاری رہا۔ اس میں مسلمانوں کا زبردست جانی و مالی نقصان ہوا۔ اس کے بارے میں بہت سی رپورٹیں اخبارات میں آچکی ہیں۔ بھاگل پور کے مولانا اکرام الدین قاسمی (پیدائش 1938 ء) نے ذاتی جائزہ کے بعد ایک مفصل رپورٹ شائع کی ہے، جو 104 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس رپورٹ کا عنوان ہے: بھاگلپور میں آگ اور خون کی ہولی۔ اس رپورٹ کے ٹائٹل پر ایک تصویر ہے، جس میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح سات مسلمانوں کو بے دردی کے ساتھ جلایا اور قتل کیا گیا۔ اس تصویر کے نیچے لکھا ہوا ہے: بھاگلپور کے ایک خاندان کے سات افراد کی لاشیں، جن میں ایک سال کا معصوم بچہ بھی شامل ہے۔ اب دوسری تصویر دیکھیے۔ پاکستان کے شہر کراچی میں 7 فروری 1990ء کو مسلم۔ مسلم فساد ہوا، جس کا سلسلہ کئی روز تک برابر جاری رہا۔ پاکستان کے مشہور اخبار نوائے وقت (8 فروری 1990ء) کے صفحہ اول پر اس کی خبر نمایاں طور پر چھپی ہے۔ اس خبر کی سرخی یہ ہے: کراچی میں آگ اور خون کا کھیل۔ اس سلسلہ میں نوائے وقت (10 فروری 1990ء) کے صفحہ اول پر مزید یہ خبر درج ہے کہ کراچی میں پانچ افراد پیٹ چاک کرنے کے بعد زندہ جلا دیے گئے۔ یہ المناک اور بہیمانہ واقعہ منگھو پیر روڈ پر ہوا۔ یہاں ایک جلی ہوئی سوزوکی وین سے پانچ مسخ شدہ لاشیں برآمد کی گئیں ۔ ان پانچ افراد کو رسیوں کے ساتھ وین کے اندر باندھ دیا گیا اور ان کا پیٹ پھاڑ کر زندہ جلا دیا گیا۔ جو لوگ ”بھاگلپور“ کے واقعہ کو ہندو ظلم کے خانہ میں ڈالتے ہیں، وہ کراچی کے اسی قسم کے واقعہ کو کس کے ظلم کے خانہ میں ڈالیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمیں ان دونوں واقعات کا کوئی مشترک سبب تلاش کرنا ہوگا۔ یہ مشترک سبب صرف ایک ہے۔ اور وہ ہے عدمِ برداشت۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page