تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 370
By Maulana Wahiduddin Khan
زندگی ناخوش گوار واقعات کو خوش گواری کے ساتھ برداشت کرنے کا نام ہے۔ اگر آپ اس برداشت کے لیے تیار ہوں تو آپ اپنی زندگی میں کامیاب رہیں گے۔ اور اگر آپ اس برداشت پر راضی نہ ہوں تو آپ ”آگ اور خون“ کے حوالے کیے جائیں گے، خواہ آپ مسلم ملک میں ہوں یا غیر مسلم ملک میں۔ حکمتِ اعراض ایک صاحب اپنے خط مورخہ 28 ستمبر 1999ء میں لکھتے ہیں: میں نے ہندی اخبار ”ہندوستان“ کا شمارہ 28 ستمبر 1999ء پڑھا۔ اس کے اداریہ میں یہ لکھا تھا کہ حال میں سورت (گجرات) میں ”گنیش و سرجن“ کا جلوس نکلا۔ اس موقع پر پولیس اور جلوس کے درمیان ٹکراؤ ہوگیا۔ پتھراؤ اور فائرنگ کے نتیجہ میں جلوس کے آٹھ افراد ہلاک اور کئی درجن زخمی ہوگئے۔ یہ جلوس شہر کے مسلم محلہ کی ایک مسجد کے پاس سے گزر رہا تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ مسلم اور ہندو یا مسلم اور پولیس کے درمیان لڑائی ہو جاتی مگر عملاً اس کا الٹا ہوا۔ مسلمانوں نے وہاں پر صبر کا رویہ اپنایا جس کی وجہ سے انہیں اس کا پھل مل گیا۔ اس میں کسی بھی مسلمان کا نقصان نہیں ہوا۔ کیونکہ ٹکراؤ انتظامیہ اور ہندوؤں کے درمیان ہوا تھا۔ یہ پڑھ کر آپ کی وہ بات یاد آگئی جو آپ ”الرسالہ“ یا کئی دیگر کتابوں میں لکھ چکے ہیں۔ (سہیل احمد، حسن البنا منزل، جامعۃ الفلاح، بلریا گنج، اعظم گڑھ) ”سورت“ کا یہ واقعہ تمام اخباروں میں آچکا ہے۔ اس واقعہ میں بہت بڑا سبق ہے ۔ اس سبق کی طرف الرسالہ میں بار بار نشان دہی کی جاتی رہی ہے۔ وہ یہ کہ مسلم کش فسادات کا اصل سبب جلوس کا نکلنا اور اس کا مسلم محلہ سے گزرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ جب جلوس نکلے تو محلہ والے اس کے مقابلہ میں غیر حکیمانہ رویہ اختیار کریں۔ حکیمانہ رویہ ہمیشہ حفاظت کا ضامن ہوتا ہے اور غیر حکیمانہ رویہ ہمیشہ نقصان کا باعث بنتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader