Urdu book · تعمیرِ شخصیت

حکمتِ اعراض

Urdu book, p. 371

By Maulana Wahiduddin Khan

اس معاملہ کا خلاصہ یہ ہے کہ جلوس کے وقت وہاں کے مسلمان اگر منفی ردّعمل کا طریقہ اختیار کریں تو مسئلہ مسلم ورسٹس پولیس بن جائے گا۔ اور اگر وہاں کے مسلمان ایسے موقع پر اعتراض کا رویہ اختیار کریں تو سارا مسئلہ جلوس ورسٹس پولیس بن جائے گا۔ اس اصول کی صداقت بار بار فسادات کی صورت میں سامنے آچکی ہے۔ سورت کا مذکورہ واقعہ اس حکمت کی ایک مثبت مثال ہے۔ دورِ اول کے مسلمان مخالفین کی سازشوں اور زیادتیوں کے درمیان گھرے ہوئے تھے ۔ اس وقت نصیحت کرتے ہوئے ان سے کہا گیا کہ : اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرو تو ان کی کوئی سازش تم کو نقصان نہ پہنچائے گی (3:120)۔ اب یہ غور کیجیے کہ دشمن کی سازشوں کے مقابلہ میں صبر کس طرح ڈھال بن جاتا ہے۔ اور زیر سازش گروہ کو اس کے نقصان سے محفوظ رکھتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں جب بھی کوئی ناخوشگوار صورت حال پیش آئے تو اس کے مقابلہ میں ردّ عمل کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اشتعال انگیز صورت حال کو دیکھ کر آدمی بھڑک اٹھے اور فوری جذبات کے تحت جوابی کارروائی کرنے لگے۔ اور دوسرا یہ کہ فریق ثانی کی طرف سے اشتعال انگیزی کے باوجود وہ مشتعل نہ ہو بلکہ اپنے جذبات کو روک کر پورے معاملے پر غور کرے۔ اور اس کے بعد جو کچھ کرے ٹھنڈے ذہن کے تحت سوچ سمجھ کر کرے۔ مذکورہ تقسیم میں پہلی قسم کے ردّ عمل کا نام غیر صابرانہ ردّ عمل ہے اور دوسری قسم کے ردّ عمل کا نام صابرانہ ردّ عمل۔ دوسرے لفظوں میں اس فرق کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے کہ غیر صابرانہ ردّ عمل پیش آمدہ صورت حال کا جذباتی جواب (emotional response) ہے۔ اس کے برعکس، صابرانہ ردّ عمل یہ ہے کہ پیش آمدہ صورت حال کے مقابلہ میں جو جوابی کارروائی کی جائے وہ ایک سوچا سمجھا جواب (considered response) ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page