تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 372
By Maulana Wahiduddin Khan
صبر کوئی بے عملی نہیں ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی کے سامنے کوئی ناپسندیدہ صورت حال پیش آئے تو وہ پست ہمت ہو کر بیٹھ جائے ۔ حقیقت یہ ہے کہ صبر اعلیٰ ترین بہادری ہے۔ جب ایک آدمی بے صبری کے ساتھ جذباتی اقدام کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے جذبات سے مغلوب ہو گیا۔ اس کے برعکس، جب ایک آدمی صبر والی روش اختیار کرتا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ اس نے اپنے بھڑکے ہوئے جذبات کو قابو میں رکھا۔ اس نے اپنے جذبات کو اپنی عقل پر غالب ہونے نہیں دیا۔ ایک واقعہ 6 ستمبر 1989ء کو میں انبیٹھہ (سہارن پور) میں تھا۔ وہاں ایک واقعہ معلوم ہوا جس میں بہت بڑا سبق ہے۔ اس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ انبیٹھہ اتر پردیش (انڈیا) کے ضلع سہارن پور کا ایک قصبہ ہے۔ ڈاکٹر شاہد صابری (پیدائش 1951ء) نے 1985ء میں اس آبادی کے باہر ایک زمین خریدی۔ اس کا رقبہ تقریباً پانچ ایکڑ ہے۔ انھوں نے زمین حاصل کرنے کے بعد اس کے چاروں طرف مینڑھ بنائی۔ اس زمین سے متصل ہندوؤں کا مرگھٹ (شمشان) ہے۔ مینڑھ بنانے کے بعد کچھ ہندوؤں نے اعتراض کیا کہ آپ نے مینڑھ غلط بنائی۔ اس میں مرگھٹ کی زمین کا ایک حصہ شامل ہو گیا ہے۔ یہ اعتراض کرنے والے وہ افراد تھے جو مقامی طور پر متعصب اور فرقہ پرست کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ ڈاکٹر شاہد صابری نے کہا کہ آپ لوگ پیمائش کرا لیں اور جتنی زمین پیمائش میں نکلے، اس کا دگنا لے کر مرگھٹ میں شامل کر لیجیے۔ یہ کام آپ مجھ سے پوچھے بغیر خود سے کر لیں۔ مجھے کوئی اعتراض نہ ہوگا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader