تعمیرِ شخصیت
Urdu book, p. 373
By Maulana Wahiduddin Khan
اگست 1987ء کا واقعہ ہے۔ ڈاکٹر شاہد صابری راستہ سے گزر رہے تھے کہ انھوں نے دیکھا کہ بہت سے ہندو آگے کی طرف جا رہے ہیں۔ ملاقات کے بعد انھوں نے بتایا کہ آج ہم آپ کی زمین کو ناپنے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر شاہد صاحب نے کہا کہ آپ لوگ ضرور جائیں اور ناپنے کے بعد مر گھٹ کی جڑ میں ہماری طرف نکلے، اس کو بلا بحث اس میں شامل کر لیں۔ ان لوگوں نے کہا کہ آپ بھی چلیے تاکہ آپ کے سامنے پیمائش کی جا سکے۔ ڈاکٹر شاہد صابری بھی کچھ دیر بعد اپنی زمین پر پہنچ گئے۔ انھوں نے کوئی مداخلت نہیں کی۔ بلکہ ہندو صاحبان کو آزادانہ طور پر ناپنے کا موقع دیا۔ انھوں نے بار بار ناپا۔ یہاں تک کہ معلوم ہوا کہ ان کا شبہ غلط تھا۔ ڈاکٹر شاہد صاحب نے مینڈھ بالکل صحیح بنائی ہے، بلکہ ایک طرف خود اپنی کچھ زمین مر گھٹ (شمشان) کی طرف چھوڑ دی ہے۔ اس واقعہ کا اتنا اثر ہوا کہ اس کے بعد مقامی ہندوؤں نے ڈاکٹر شاہد صابری سے کہا کہ آپ انبیٹھہ کی چیر مینی کے لیے کھڑے ہو جائیں۔ یہاں کے ہندو اور مسلمان دونوں آپ کا ساتھ دیں گے اور آپ بلا مقابلہ کامیاب ہو جائیں گے۔ مگر ڈاکٹر شاہد صابری نے شکریہ کے ساتھ انکار کر دیا۔ اس میں سبق ہے مولانا اکرام الدین قاسمی (پیدائش 1938ء) ڈ مراواں (ضلع بھاگل پور) کے رہنے والے ہیں۔ فروری 1990ء کی ملاقات میں انھوں نے اپنے کچھ واقعات بتائے جن میں بہت بڑا سبق ہے۔ 1966ء کا واقعہ ہے۔ مولانا اکرام الدین صاحب نے گنگا کو اسٹیمر سے پار کیا۔ وہ براری ریلوے اسٹیشن پر بھاگل پور جانے والی پسنجر ٹرین پر سوار ہو گئے۔ ٹرین میں بھیڑ تھی۔ ایک جگہ سیٹ پر ڈالاڈہ کا ڈبہ رکھا ہوا تھا۔ وہ ڈبہ کو کھسکا کر وہاں بیٹھ گئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader