Urdu book · تعمیرِ شخصیت

اس میں سبق ہے

Urdu book, p. 374

By Maulana Wahiduddin Khan

تھوڑی دیر کے بعد ایک ہندو نوجوان آیا۔ یہ ڈبہ اسی کا تھا۔ وہ اس کو سیٹ پر رکھ کر باہر چلا گیا تھا۔ جب اس کو اندازہ ہوا کہ ڈبہ اپنی جگہ سے ہٹایا گیا ہے تو اس نے پوچھا کہ اس کو کس نے ہٹایا ہے۔ مولانا اکرام الدین صاحب نے کہا کہ میں نے ہٹایا ہے۔ یہ سنتے ہی وہ سخت غصہ ہو گیا، کیوں کہ اس کے عقیدہ کے مطابق ایک مسلمان نے اس کو چھو کر اس کو گندہ کر دیا تھا۔ اس نے کہا کہ اس ڈبہ میں گنگا جل تھا۔ اس کو لے کر میں دیو گھر جا رہا تھا۔ اس کو تم نے پوتر (ناپاک) کر دیا، اب وہ لے جانے کے قابل نہیں رہا۔ وہ غصہ میں آپے سے باہر تھا۔ اور نہایت گرم اور اشتعال انگیز لہجہ میں بار بار کہہ رہا تھا کہ تم نے میرے گنگا جل کو پوتر کر دیا۔ مولانا اکرام الدین صاحب نے ان باتوں کا کوئی اثر نہیں لیا۔ وہ خاموشی سے اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور سیٹ نوجوان کے لیے خالی کر دی۔ انھوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا تھا کہ اس ڈبہ میں گنگا جل ہے۔ اور وہ میرے چھونے سے پوتر ہو جائے گا۔ مجھ سے غلطی ہو گئی، مجھے معاف کر دو۔ ہندو نوجوان ان کے خلاف برستارہا اور وہ خاموشی سے کسی ردّعمل کے بغیر اس کو سنتے رہے۔ یہ منظر دیکھ کر ڈبہ کے تمام ہندو اس نوجوان کے خلاف ہو گئے۔ اور مولانا اکرام الدین صاحب کی حمایت کرنے لگے۔ انھوں نے نوجوان سے کہا کہ مولانا جب چپ ہیں اور اپنی غلطی مان رہے ہیں تو تم کیوں ان کے خلاف اتنا زیادہ چیخ رہے ہو۔ انھوں نے مولانا اکرام الدین صاحب سے کہا کہ آپ بالکل مطمئن رہیے۔ یہ آپ کا کچھ نہیں کر سکتا ہے۔ آخر کار ہندو نوجوان چپ ہو گیا۔ مولانا اکرام الدین صاحب اپنی جگہ برابر کھڑے رہے۔ کچھ دیر کے بعد نوجوان نے بے رخی کے ساتھ مولانا اکرام الدین صاحب سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آرہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ کھڑک بازار سے (اس وقت مولانا اسی مقام پر رہتے تھے)۔ نوجوان نے کہا کہ کھڑک بازار میں ایک مولانا اکرام الدین ہیں، کیا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page